عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کل ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں محرم الحرام 2026 کے احسن اور پُر اَمن اِنعقاد کے لئے کئے جارہے اِنتظامات کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزرأ سکینہ اِیتو، جاوید رانا، جاوید احمد ڈار (بذریعہ ورچیول موڈ)اور ستیش شرما، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ممبران اسمبلی تنویر صادق (زڈی بل)، علی محمد ڈار (چاڈورہ)، آغا منتظر مہدی (بڈگام)، ڈاکٹر شفیع احمد وانی (بیروہ)، جاوید ریاض بیدار (پٹن)، ہلال اکبر لون (سونہ واری)، شمیم فردوس (حبہ کدل) اور سلمان ساگر (حضرت بل) نے شرکت کی۔صدرآل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے عمران رضا انصاری، مختلف شیعہ تنظیموں کے نمائندوں، علماء کرام، سول سوسائٹی کے اراکین اور کمیونٹی رہنما ئوںنے بھی میٹنگ میں شمولیت اِختیار کی۔وزیر اعلیٰ نے شرکأسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’محرم الحرام کی تیاری آج سے شروع نہیں ہوئی ہیں، ضلعی، صوبائی اور محکمانہ سطح پر پہلے ہی وسیع پیمانے پر کام کیا جا چکا ہے۔ یہ میٹنگ ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اِجتماعی طور پر اِنتظامات کا جائزہ لیں، مکمل کئے گئے کاموں کا جائزہ لیں اور جو کچھ رہ گیا ہے اسے وقت پر مکمل کیا جائے۔‘‘میٹنگ میںبجلی کی بلا تعطل فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے متبادل انتظامات جیسے جنریٹر، بیٹری اِنورٹر سسٹم اور سولر لائٹنگ کے مؤثر اِستعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور بڑے اجتماعی مقامات پر جنریٹر نصب کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ بجلی کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے۔وزیراعلیٰ نے بیک اپ کے مناسب اِنتظامات کی ضرورت پر زور دیا جن میں جنریٹرز، بیٹری،انورٹر سسٹم اور آپریشنل سولر لائٹنگ کی تنصیبات شامل ہیں۔ اُنہوں نے بڑے اجتماعی مقامات پر جنریٹر نصب کرنے کی ہدایت دِی تاکہ بجلی کی فراہمی میں کوئی رُکاوٹ نہ آئے۔اُنہوںنے محکمہ جل شکتی کو ہدایت دی کہ تمام متاثرہ علاقوں میں صاف اور محفوظ پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے ایام کے دوران تعینات پانی کے ٹینکروں کے ذریعے صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے اور جہاں ٹینکروں کی آمدورفت مشکل ہو یا بڑے اجتماعات متوقع ہوں وہاں مستقل واٹر ڈسٹری بیوشن پوائنٹس قائم کئے جائیں۔وزیر اعلیٰ نے صفائی ستھرائی کے اِنتظامات کا بھی جائزہ لیا اور شہری بلدیاتی اداروں کو ہدایت دی کہ امام بارگاہوں، جلوسوں کے راستوں اور بڑے اجتماعی مقامات کے ارد گرد صفائی کے کاموں کو تیز کریں۔وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ محرم الحرام کے دوران یہ تمام اِنتظامات مکمل طور پر فعال رہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔اُنہوںنے ٹریفک مینجمنٹ پلان کا بھی جائزہ لیا اور ٹریفک پولیس و سول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ جلوسوں کی روانی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مسافروں، سیاحوں اور عام شہریوں کو کم سے کم مشکلات پیش آئیں۔وزیراعلیٰ نے سڑکوں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کو ہدایت دی کہ جلوسوں کے راستوں اور بڑے اجتماعی مقامات پر سڑکوں کی مرمت اور گڑھوں کو بھرنے کا کام فوری طور پر مکمل کیا جائیوزیر اعلیٰ نے محرم الحرام اِنتظامات کے لئے نامزد نوڈل افسران کی جوابدہی اور عوامی رسائی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور ہدایت دی کہ تمام نوڈل افسران عوام کے لئے ہر وقت دستیاب رہیں اور شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے انتظامات کی مانیٹرنگ اور کوآرڈی نیشن کو مضبوط بنانے کے لئے اعلان کیا کہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک خصوصی مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے گا جو محرم الحرام اِنتظامات کی مسلسل نگرانی کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ نامزد افسران مختلف محکموں کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گے اور عوامی شکایات کی نگرانی کریں گے۔میٹنگ میں کشمیر اور جموں کے صوبائی کمشنروں نے اپنے اپنے صوبوں میں جا رہے اِنتظامات پر تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی