یوسف میر
اتوار کی شام، 20 مئی کا دن تھا۔ گلزار اپنے گھر کے برآمدے میں بیٹھا ہربل چائے پی رہا تھا کہ اتنے میں ساحل تیز قدموں سے اندر آیا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی پریشانی اور آنکھوں میں نمی تھی۔
’’کیا بات ہوئی ساحل؟ خیریت تو ہے؟‘‘
گلزار نے فکر مندی سے پوچھا۔
ساحل کرسی پر بیٹھ گیا۔ چند لمحے خاموش رہا، پھر بوجھل آواز میں بولا:
’’گلزار… آج میں نے زندگی کی ایک ایسی حقیقت دیکھی ہے جس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے آسمان میرے سر پر ٹوٹ پڑا ہو۔‘‘
گلزار نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
’’آخر ہوا کیا؟‘‘
ساحل نے ایک لمبی سانس لی اور کہنا شروع کیا:
’’آج میں اپنے ایک دوست کے گھر اس کے بیٹے کی خبرگیری کے لئے گیا تھا۔ سوچا، ساتھ ہی اس کے والد صاحب کی بھی خیریت پوچھ لوں۔ جب میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو گھر والوں نے ٹالنے کی کوشش کی۔ کسی نے کہا کہ شاید وہ دوسری بیٹی کے گھر گئے ہیں، لیکن میرے بار بار اصرار کرنے پر ایک شخص نے دھیمی آواز میں کہا:‘‘
“شاید اندر والے کمرے میں ہوں…..”
ساحل چند لمحوں کے لئے خاموش ہو گیا، جیسے وہ منظر دوبارہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ گیا ہو۔
’’میں نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا… اور جو منظر دیکھا، وہ شاید مرتے دم تک نہ بھول سکوں۔‘‘
گلزار کی نظریں ساحل کے چہرے پر جم گئیں۔
’’کمرے میں ایسی بدبو تھی کہ سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے برسوں سے وہاں صفائی نہ ہوئی ہو۔ فرش کی مٹی نمی کے ساتھ گارے کی طرح جم چکی تھی۔ اس پر بچھے پرانے ٹاٹ مٹی کے ساتھ ایسے چپک گئے تھے جیسے زمین ہی کا حصہ ہوں۔ دیواروں پر کیلوں میں پھٹے، میلے اور بدبودار کپڑے لٹک رہے تھے۔ ایک طرف خستہ حال چارپائی پڑی تھی، جس پر بوسیدہ گدا رکھا تھا، مگر اس پر کوئی نہیں تھا۔‘‘
ساحل کی آواز بھرّا گئی۔
’’کمرے کے ایک کونے میں، دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے، رضائیوں اور پرانے کپڑوں کے سہارے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا… وہ بلال عرف بو لالا تھے۔‘‘
گلزار نے آہستہ سے پوچھا:
’’پھر تم نے کیا کہا؟‘‘
میں ان کے قریب گیا اور پوچھا:
بو لالا، کیسے ہیں آپ؟’
انہوں نے میری طرف ایسی نگاہوں سے دیکھا جن میں برسوں کی تنہائی اور محرومی بسی ہوئی تھی۔ پھر دھیرے سے بولے:
’’بیٹا، میں کہاں ٹھیک ہوں؟ میرے پاس کوئی نہیں آتا۔ بس میری بہو چائے کا کپ دروازے کے پاس رکھ کر چلی جاتی ہے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے ساحل کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
’’میں نے ان کی بہو سے پوچھا کہ آخر انہیں اس حالت میں کیوں رکھا گیا ہے؟‘‘ اس نے بے بسی سے کہا:
’’کمرے میں بہت بدبو ہے۔ مجھے انفیکشن ہو جاتا ہے، اس لئے میں اندر نہیں جاتی۔ کبھی کبھار ان کی بیٹی آ کر صفائی کر دیتی ہے…‘‘
کمرے میں چند لمحوں کے لئے خاموشی چھا گئی۔
گلزار نے دھیرے سے پوچھا:
’’کیا بو لالا کے اپنے بچے نہیں ہیں؟‘‘
ساحل نے فوراً جواب دیا:
’’ہیں… چار بیٹے اور دو بیٹیاں۔ ایک بیٹا فوت ہو چکا ہے۔ باقی تینوں اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ دو سرکاری ملازم ہیں اور ایک کاروبار کرتا ہے۔ ان کے اپنے بچے بھی ہیں، گھر بھی ہیں، آسائشیں بھی… لیکن اپنے باپ کے لئے کسی کے پاس وقت نہیں۔‘‘
ساحل کچھ لمحے خاموش رہا، پھر دھیمی آواز میں بولا:
’’گلزار، تم شاید یقین نہ کرو، یہی بو لالا اپنی جوانی کے زمانے میں پورے علاقے میں محنت، ہمت اور طاقت کے لئے مشہور تھے۔ جنگلوں سے لکڑیاں اور کوئلے لا کر بیچتے تھے۔ محنت مزدوری کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام بھی کرتے تھے۔ صبح سے شام تک مسلسل محنت کر کے اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتے تھے۔ بڑی مشقتوں کے بعد انہوں نے اپنے گھر والوں کی زندگی کو ایک اچھے رنگ ڈھنگ پر کھڑا کیا تھا۔ لوگ ان کی ہمت اور جسمانی طاقت کی مثالیں دیا کرتے تھے، مگر وقت نے اسی مضبوط انسان کو بے بسی کی ایسی تصویر بنا دیا تھا کہ آج وہ اپنے ہی گھر میں تنہا پڑے ہیں۔‘‘
گلزار نے افسوس سے سر جھکا لیا۔
ساحل بولتا رہا:
’’گلزار، بعض اوقات انسان زندگی میں ایسے مناظر دیکھ لیتا ہے جو صرف آنکھوں کو نہیں بلکہ روح کو بھی زخمی کر دیتے ہیں۔ وقت کے بدلتے ہوئے رویوں نے جہاں انسان کو مادی آسائشوں کے قریب کر دیا ہے، وہیں رشتوں کی حرارت اور اپنائیت کو بھی دھیرے دھیرے کمزور کر دیا ہے۔ خاص طور پر وہ والدین، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اولاد کی خوشیوں کے لئے وقف کر دی ہوتی ہے، بڑھاپے میں اکثر تنہائی، بے بسی اور بے توجہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘‘
یہ کہتے کہتے ساحل کی آواز بھرّا گئی۔
’’اگر آج کے دور میں لوگ اپنے ماں باپ کا خیال نہیں رکھ سکتے، تو پھر ان سے کیا امید رکھی جائے کہ وہ معاشرے کے کسی مجبور، غریب یا مصیبت زدہ انسان کے کام آئیں گے؟‘‘
دونوں دوست خاموش ہو گئے۔
فضا پر ایک عجیب سا بوجھ طاری تھا۔
شاید اس خاموشی میں ایک سوال چھپا تھا…
وہ سوال، جو آج کے معاشرے سے جواب مانگ رہا تھا۔
���
بانڈی پورہ کشمیر
موبائل نمبر؛9906786741
[email protected]