خدا کو میں نے دیکھا ہے
خُدا کو میں نے دیکھا ہے جہاں کے ریگ زاروں میں
خدا کو میں نے دیکھا ہے زمیں کے ساگ زاروں میں
خدا کو میں نے دیکھا ہے مچلتے آبشاروں میں
خدا کو میں نے دیکھا ہے سیاروں اور ستاروں میں
خدا کو میں نے دیکھا ہے چمن کی نو بہاروں میں
بصورت ایک خاکی کے میں یہ تسلیم کرتا ہوں
خدا کو میں نے دیکھا ہے بچشمِ خود انگاروں میں
زمیں سے تا فلک اسکی ہی مسلّم حکمرانی ہے
نہیں طاعت بیاں کرلوں بہت لمبی کہانی ہے
وہ بحرِ بیکرانی ہے وہ گنگا کی روانی ہے
زماں اُسکے زمن اُسکے، وہ پیکر اِک زمانی ہے
نہیں کردار میں اُسکے کہیں نقلِ مکانی ہے
بقاء کے لفظ کی کرتا وہ خود ہی ترجمانی ہے
جہانِ زیست میں مانا کہ ہر شے تو فانی فنائی ہے
اگر لا فانی کوئی شے ہے مسلّم اِک خدائی ہے
ضمانت اُسکے ہونے کی ہے دیتی خود زمیں اُسکی
چمکتے مہر میں دیکھو چمکتی ہے جبیں اُس کی
بظاہر آپ ضامن ہے جہاں میں مندوبیں اُسکی
ہر اِک آباد گوشے میں ہے شاداں کیا مکیں اُسکی
ہُوا کرتی ہے ہر لب پر ثنا آمیز بیں اُسکی
نظامِ زیست قائم ہے بدولت اِک خدا عُشاقؔ
وہی اِک ذات ہے کامل وہی اِک ذات ہے آفاق
میری چشمِ تمنا سے جو یہ موتی برستے ہیں
یہ دیدارِ ہوس میں پھر اماں پل پل ترستے ہیں
گہہ مغموم ہوکر پھر یہ خود پہ خود ہی ہنستے ہیں
یہی ناکام سوچیں جب بدلتے اپنے رستے ہیں
فضا کے تندغولوں میں وہیں پھر جاکے پھنستے ہیں
مگر جب اِن کے سائیوں سے کہیں پھر بات ہوتی ہے
سفر کی ساری کوفت سے ہمیں نجات ہوتی ہے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛96975244690
دھڑکن
شور بلبل کا سنا تو
نیند ٹوٹی۔۔۔ آنکھ کھولی
دیکھتا ہے
رات کالی
ڈھل چکی ہے
رنگ شب کے
مٹ چکے ہیں
سب دُھلے ہیں
دھیمی دھیمی سی ہوائیں
۔۔۔۔۔ ہیں مہکتی
نور کی چادر بھی پھیلی
سامنے بہتی ندی پر
گوریوں کے گیت پیارے
خواب کے منظر ہیں سارے
پیار کی دھڑکن پکارے
۔۔۔۔۔۔۔دل مگر غمگین ساہے
ماجرا پوچھا تو بولا
عشق کی دیوانگی میں
پیڑ پر بیٹھا یہ کاگا
چیختا سا کیوںہے بولو
چار سو پہرہ ہے کیسا
کیوں ہے دل پر اب بھی
چھایا سا اندھیرا
دل جگر اے جان میرے
یار میرے
ہے… تمہاری بات سچی
اور میرا یہ روپ سچا
رنگ بھی سچا
غم بھی ازلی
یہ نہ ہوتا۔۔۔کچھ تو ہوتا
کچھ نہ ہوتا۔۔۔کیا وہ ہوتا
آو مالا پھیر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
مشتاق مہدی
مَلہ باغ۔حضرت بل سرینگر
نظم
اس کی آنکھوں میں بہت سارے راز تھے
اس کی آنکھوں میں بہت سارے راز تھے۔
کچھ ادھورے الفاظ
جو ہونٹوں تک آ کر رک گئے تھے،
کچھ ادھوری کہانیاں
جو وقت کی گرد میں کہیں گم ہو گئی تھیں،
کچھ ادھورے وعدے
جو نبھائے جانے کے انتظار میں تھے،
کچھ ادھوری نظمیں
جو کاغذ پر اترنے سے پہلے ہی بکھر گئی تھیں،
کچھ ادھوری باتیں
جو خاموشی کی چادر اوڑھ کر سو گئی تھیں،
کچھ ادھوری ملاقاتیں
جن کی خوشبو ابھی تک ہوا میں باقی تھی،
کچھ ادھورے راز
جو اس نے خود سے بھی چھپا رکھے تھے،
کچھ ادھوری راتوں کی کہانیاں
جو چاند اور تاروں کے درمیان بھٹکتی رہیں،
کچھ ادھوری یادیں
جو دل کے کسی کونے میں سانس لیتی تھیں،
کچھ خاص لمحے
جو وقت کے ہاتھوں سے پھسل گئے،
کچھ بے ساز ہوئے ساز
جو کبھی محبت کے نغمے چھیڑا کرتے تھے،
اور کچھ ٹوٹے ہوئے گھنگرو کی آواز…
جو آج بھی سنائی دیتی ہے،
جب کبھی میں اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوں۔
شہزاد احمد کھٹانہ
مست پورہ شوپیان، کشمیر
گیتوں سا انداز اس کا
آواز ہے بالکل غزل جیسی
نام چرایا نظموں سے
آنکھیں ہیں ہرنی جیسی
نازک کلی جیسا بدن
زلفوں والی پری جیسی
لگتی ہے ہر بار مجھے
غالب کے شعروں جیسی
باتوں میں ہے جادوئی پن
قد آور ہے سرو جیسی
سرخی غضب کی گالوں پر
مسکاتی کھلتی گلاب جیسی
ہے اس میں وہ البیلا پن
لگتی ہے تاج محل جیسی
سرگم ہے اسکی بولی میں
شوخی ہے ربا عی جیسی
مہندی رچائے ہاتھوں میں
کشمیر کے چنار جیسی
چہرے پر شرمیلا پن
معصومیت دلہن جیسی
بانکپن میں لگے مجھ کو
اچھلتے جھرنے جیسی
راز ہے وہ محبوب میں
ہنستے کھیلتے کنول جیسی
وہ رہتی ہے میرے خوابوں میں
سینے میں دل جیسی
رفتار ہے اس میں تتلی کا
گفتار میں کوئیل جیسی
عذرا غنی
آسنور کولگام ، کشمیر