ملک منظور
ایک پرانی اور خستہ حال عمارت کی کچی اور بوسیدہ دیواروں میں سینکڑوں چوہوں کا بسیرا تھا۔ عمارت سنسان اور ویران تھی، کیونکہ اس کے مالکان ایک نئے گھر میں منتقل ہو چکے تھے۔ خوش قسمتی سے اس پرانی عمارت کے بالکل قریب ہی اناج کا ایک بہت بڑا گودام تھا، اسی لیے چوہوں کو رزق کی کبھی کمی نہیں ہوتی۔ وہ دن بھر دانے جمع کرتے، بے فکری سے اچھلتے کودتے اور اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے۔
ایک دن ایک مکار اور عیار بلی کا گزر وہاں سے ہوا۔ جب اس نے اتنی بڑی تعداد میں موٹے تازے چوہے دیکھے تو اس کی آنکھوں میں لالچ کی چمک آ گئی۔ اس نے فوراً عمارت کی چھت کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیا اور روزانہ تاک لگا کر ایک چوہا دبوچتی اور چٹ کر جاتی۔
شروع شروع میں چوہوں نے اس سنگین خطرے کو بالکل سنجیدگی سے نہ لیا۔ جب بھی کوئی چوہا بلی کا نوالہ بنتا، تو باقی چوہے انتہائی خود غرضی اور لاپرواہی سے کہتے
“شکر ہے، ہم تو بچ گئے۔ بیچارے کی اتنی ہی عمر لکھی تھی!”
یوں چوہوں کی اسی لاپرواہی اور بے حسی نے بلی کا کام آسان کر دیا۔ آہستہ آہستہ ان کی آبادی گھٹنے لگی۔
ایک دن ایک دانا بوڑھے چوہے نے صورتحال بھانپ لی۔ اس نے اپنے قبیلے کو اکٹھا کیا اور سنجیدگی سے بولا “میرے بھائیو! یہ جگہ اب ہمارے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو سب کے سب مٹ جائیں گے۔ ہمیں یا تو متحد ہو کر اس آفت کا مقابلہ کرنا ہوگا، یا پھر یہاں سے ہجرت کرنی ہوگی۔”
بوڑھے چوہے کی بات سن کر کچھ چوہوں نے تو مزاق اڑایا، مگر وہ اپنے خاندان کو لے کر وہاں سے چلا گیا۔ اس کا یہ فیصلہ دیکھ کر چند دیگر چوہوں کے دلوں میں بھی خوف پیدا ہوا اور وہ بلی کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھنے لگے۔ اب جیسے ہی بلی چھت سے نیچے اترتی، چوہے ایک دوسرے کو خبردار کر دیتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بلی کی ہر چال ناکام ہونے لگی اور وہ کئی کئی دن بھوکی رہنے پر مجبور ہو گئی۔
بلی جتنی مکار تھی، اتنی ہی صبر کرنے والی بھی تھی۔ اس نے صورتحال بھانپ کر ایک نئی چال چلی۔ وہ کئی دنوں کے لئے اس عمارت سے غائب ہو گئی۔ چوہوں نے سمجھا کہ خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل گیا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ پھر سے بے فکر ہو گئے۔ ننھے چوہے تو اب کھلے عام گھومنے پھرنے لگے۔
اچانک ایک دن بلی خاموشی سے واپس لوٹ آئی۔ سب چوہے خوفزدہ ہو کر اپنے اپنے بلوں میں دبک گئے، مگر ایک معصوم اور نادان بچہ باہر ہی رہ گیا۔ وہ بلی کی خونخوار فطرت سے بالکل ناواقف تھا۔ بلی نے نہایت نرمی سے اسے پکارا، اناج کے چند دانے اس کے آگے ڈالے اور اس کے ساتھ کھیلنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور بچہ باہر نکلا، بلی اس سے بھی پیار اور لاڈ سے پیش آئی۔
رفتہ رفتہ عمارت کے سارے ننھے چوہے بلی کے مرید اور دوست بن گئے۔ ان کے والدین انہیں بار بار سمجھاتے اور ڈراتے “نادانو! یہ تمہاری ازلی دشمن ہے، اس کی محبت کے جھانسے میں مت آؤ۔”
مگر بچے ہنس کر جواب دیتے “آپ لوگ پرانے زمانے کے ہیں، بلاوجہ وہم کرتے ہیں۔ ہماری بلی تو بہت رحم دل اور اچھی ہے!”
وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور وہ ننھے چوہے اب جوان ہو چکے تھے۔ بلی انہیں دیکھ دیکھ کر رال ٹپکاتی، مگر وہ ایک ایک کرکے نہیں بلکہ ان سب کا ایک ساتھ صفایا کرنا چاہتی تھی۔ اس لئے اس نے اپنی زندگی کی سب سے خطرناک اور زہریلی چال چلی۔
اس نے چوہوں کے درمیان حسد اور نفرت کے بیج بونے شروع کر دیئے۔ وہ تنہائی میں ایک چوہے کے پاس جاتی اور دوسرے کے خلاف اس کے کان بھرتی “تم جانتے ہو، وہ دوسرا چوہا خود کو تم سب کا سردار سمجھتا ہے؟ وہ پیٹھ پیچھے تمہارا مذاق اڑاتا ہے اور تمہیں حقیر سمجھتا ہے۔”
نادان چوہے اس کے اس زہریلے پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے۔ جب نفرت عروج پر پہنچ گئی، تو بلی نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر کہا “اگر میں ایسے مغرور چوہے کو ختم بھی کرنا چاہوں، تو تم سب مجھے ہی برا کہو گے۔”
حسد کی آگ میں جلتے ہوئے چوہے تپاک سے بولے “نہیں! وہ واقعی مغرور ہے، اسے اس کے کئے کی سزا ملنی چاہیے۔”
یوں بلی نے ان کے آپسی اختلافات اور پھوٹ کا فائدہ اٹھایا اور ایک ایک کرکے ان سب کو ہڑپ کرتی رہی، اور کسی نے دوسرے کی موت پر آواز تک نہ اٹھائی۔
کچھ عرصے بعد، وہی بوڑھا چوہا کسی کام سے دوبارہ اس پرانی عمارت میں آیا۔ وہاں کا منظر بدل چکا تھا۔ ہر طرف عبرت ناک خاموشی اور ماتم کا سماں تھا۔ بچے اپنے والدین کے لئے اور والدین اپنے بچوں کے لئےرو رہے تھے۔
بوڑھے چوہے نے ایک سرد آہ بھری اور افسوس سے کہا “میں نے تمہیں پہلے ہی آگاہ کیا تھا۔ یاد رکھو! دشمن کبھی اپنی فطرت نہیں بدلتا۔ وہ اپنی عادت بدل سکتا ہے، مگر اپنی خصلت نہیں بدل سکتا۔ تمہاری یہ بربادی تمہاری قسمت کا لکھا نہیں، بلکہ تمہاری غفلت، آپسی پھوٹ اور نادانی کا نتیجہ ہے۔”
ایک نوجوان چوہے نے سسکیاں لیتے ہوئے پوچھا “دادا! اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ ہم اپنی زندگی کیسےبچائیں؟”
بوڑھے چوہے نے جواب دیا “سب سے پہلے اپنے دلوں سے نفرت نکالو اور اتحاد کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔ ہوشیار بنو اور فوراً یہ جگہ چھوڑ کر کسی ایسی پناہ گاہ کی طرف چلو جہاں تمہاری نسلیں محفوظ رہ سکیں۔ یاد رکھو، اس پرآشوب دور میں صرف اندھا بھروسہ کافی نہیں، قدم قدم پر احتیاط لازم ہے، خصوصاً اپنے بچوں کی تربیت اور حفاظت کے لئے، کیونکہ دشمن ہمیشہ پہلے کمزور کڑی پر وار کرتا ہے۔”
اس بار چوہوں نے بوڑھے چوہے کی نصیحت پر عمل کی۔ انہوں نے اپنے تمام اختلافات کو ختم کیا اور ایک ہو کر تفرق ، نفرت اور منافقت سے ہجرت کر گئے۔
ادھر مکار بلی آج بھی اس سنسان عمارت کے چکر کاٹتی ہے اور انہیں ڈھونڈتی پھرتی ہے، مگر اب وہاں کوئی نادان چوہا باقی نہیں بچا تھا جو اس کے فریب کا شکار بنتا۔
���
قصبہ کھُل کولگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛9906598163