سرحدی آبادی میں خوف و ہراس ،تسیالہ گھمبیر میں قبائلی خاندانوں نے بڑا نقصان ٹال دیا
سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے مختلف علاقوں میں جاری جنگلاتی آگ کے بحران نے اب لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جنگلاتی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث نہ صرف ماحولیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں سیکورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے جاری شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث آگ مسلسل پھیل رہی ہے اور محکمہ جنگلات سمیت دیگر متعلقہ ادارے صورتحال پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔راجوری کے کیری سیکٹر میں ایل او سی کے قریب جنگلات میں منگل کے روز آگ بھڑک اٹھی تھی جو بدھ اور جمعرات تک جاری رہی۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب آگ نے مزید جنگلاتی حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے باعث متاثرہ علاقہ مزید وسیع ہو گیا۔ اس وقت کیری کے ایل او سی سے ملحقہ جنگلات کا ایک بڑا حصہ آگ کی زد میں ہے اور دھواں دور دور تک دیکھا جا رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق آگ سے متاثرہ علاقوں میں کئی بار بارودی سرنگوں کے دھماکے بھی سنے گئے، جس سے صورتحال مزید تشویشناک بن گئی ہے۔ ایل او سی کے قریب موجود بارودی سرنگیں آگ کی شدت کے باعث پھٹ رہی ہیں اور ان دھماکوں کی آوازیں دور دراز دیہات تک سنائی دے رہی ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے جبکہ آگ پر قابو پانے کے عمل کو بھی مزید مشکل بنا دیا ہے۔دوسری جانب راجوری کے تسیالہ گھمبیر گاؤں میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب جنگلاتی آگ نے اچانک رخ بدلتے ہوئے آبادی کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ آگ کے شعلے گھروں کے قریب پہنچنے پر مقامی لوگوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو کئی مکانات جل سکتے ہیںتاہم مقامی باشندوں، خصوصاً قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر آگ بجھانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ دیہاتیوں نے اجتماعی طور پر پانی، مٹی اور درختوں کی شاخوں کا استعمال کرتے ہوئے آگ کے شعلوں کو گھروں تک پہنچنے سے روک دیا۔ مقامی لوگوں کی بروقت کارروائی کے باعث آگ رہائشی مکانات سے چند میٹر کے فاصلے پر ہی بجھا دی گئی، جس سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔متاثرہ مکانات قبائلی خاندانوں کے تھے جو اپنی روزی روٹی کے لیے بڑی حد تک جنگلات پر انحصار کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے حکومت اور محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
جنگلات میں آگ سے بجلی کا نظام درہم برہم
نصف درجن سے زائد دیہات متاثرشدید گرمی صارفین پریشان
رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ کے گاؤں دباد برسالی میں بدھ کی رات دیر گئے جنگلات میں لگنے والی خوفناک آگ نے بجلی کے نظام کو بری طرح متاثر کر دیا، جس کے نتیجے میں چھ سے زائد دیہات کی بجلی سپلائی مکمل طور پر منقطع ہو گئی۔ شدید گرمی کے اس موسم میں بجلی کی بندش نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ محکمہ بجلی کے ملازمین بجلی بحال کرنے کے لیے مسلسل کام میں مصروف ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ پانچ دنوں سے علاقے میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے جس کی وجہ سے جنگلات میں خشک گھاس اور درخت آسانی سے آگ کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ بدھ کی رات دباد برسالی کے جنگل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے باعث کئی دیودار کے درخت جل کر کمزور ہو گئے اور بعد ازاں بجلی کی مرکزی لائن پر گر پڑے، جس سے بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں اور متعدد کھمبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کی صبح تقریباً 6بجے حفاظتی اقدامات کے طور پر بجلی کی سپلائی مکمل طور پر بند کر دی گئی تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔ بجلی بند ہونے کے باعث دباد برسالی سمیت آس پاس کے کئی دیہات اندھیرے میں ڈوب گئے اور لوگوں کو شدید گرمی میں پانی کی قلت، پنکھوں اور دیگر برقی آلات کی بندش جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی محکمہ بجلی کے ملازمین اور تکنیکی عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا۔ جنگلاتی علاقے میں دشوار گزار راستوں کے باوجود ملازمین نے خراب تاروں اور کھمبوں کی مرمت کا کام شروع کر دیا۔ محکمہ جنگلات کے اہلکار بھی اپنے عملے کے ساتھ آگ پر قابو پانے اور صورتحال کو معمول پر لانے میں مصروف رہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ شدید گرمی کے دوران دن بھر بجلی بند رہنے سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔اس سلسلے میں جب محکمہ بجلی کے متعلقہ جونیئر انجینئر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جنگلات میں آگ لگنے کے باعث بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے سپلائی متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کے ملازمین مسلسل کام کر رہے ہیں اور امید ہے کہ شام پانچ بجے تک بجلی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔
جنگلاتی آگ سے جنگلی حیات کو شدید خطرہ، محکمہ وائلڈ لائف متحرک
متعدد جنگلی جانوروں کو بچایا گیا، پرندوں کے گھونسلے اور قدرتی مساکن تباہ ہونے کا خدشہ
سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری میں مختلف مقامات پر جاری جنگلاتی آگ نے نہ صرف سرسبز جنگلات اور قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ اب یہ آگ جنگلی حیات کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ جنگلات میں مسلسل پھیلتی آگ کے باعث جانوروں، پرندوں اور دیگر نایاب مخلوقات کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے جبکہ ان کے قدرتی مساکن اور گھونسلے بھی تباہ ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ تحفظِ جنگلی حیات پوری طرح متحرک ہو گیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی و نگرانی کے کام جاری ہیں۔محکمہ تحفظِ جنگلی حیات کے حکام کے مطابق ضلع کے مختلف جنگلاتی علاقوں میں آگ کے باعث جنگلی حیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ کئی علاقوں میں درخت، جھاڑیاں اور سبزہ جل کر راکھ ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کے رہنے اور خوراک حاصل کرنے کے مقامات متاثر ہوئے ہیں۔ حکام نے کہا کہ کئی پرندوں کے گھونسلے بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ چھوٹے جانوروں کے بچ نکلنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔محکمہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ موجودہ بحران کے دوران جنگلی حیات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف ٹیمیں متاثرہ جنگلاتی علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں جو مسلسل نگرانی، گشت اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ یہ ٹیمیں آگ سے متاثرہ جنگلات میں جانوروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ رہی ہیں اور زخمی یا پھنسے ہوئے جانوروں کو بچانے کے لیے فوری کارروائی کر رہی ہیں۔محکمہ تحفظِ جنگلی حیات راجوری کے فارسٹر افتخار حسین خان نے بتایا کہ ان کی ٹیمیں روزانہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہی ہیں تاکہ جنگلاتی آگ سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لیا جا سکے اور جنگلی حیات کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سندربنی سب ڈویڑن کے لوہراکوٹ علاقے میں ایک جنگلی جانور آگ سے متاثر حالت میں پایا گیا تھا جسے مقامی لوگوں نے دیکھا اور فوری طور پر محکمہ کو اطلاع دی۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جانور کو بحفاظت ریسکیو کیا اور اس کی دیکھ بھال شروع کی گئی ہے۔ جانور کی حالت بہتر ہونے کے بعد اسے دوبارہ اس کے قدرتی ماحول میں چھوڑ دیا جائے گا۔ افتخار حسین خان نے مزید کہا کہ جنگلاتی آگ خطے کے نازک ماحولیاتی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور محکمہ کی ٹیمیں مسلسل زمینی سطح پر کام کر رہی ہیں تاکہ جنگلی حیات اور جنگلاتی وسائل کو کم سے کم نقصان پہنچے۔جمعرات کے روز بھی محکمہ تحفظِ جنگلی حیات کے اہلکاروں نے ایک اہم کارروائی انجام دیتے ہوئے جنگلاتی آگ میں پھنسے جنگلی مرغی کے بچوں کو بحفاظت بچا لیا۔ محکمہ کے اس اقدام کو مقامی لوگوں نے سراہتے ہوئے کہا کہ جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ قیمتی جنگلی حیات کو محفوظ رکھا جا سکے۔
جنگلاتی آگ کا بحران مزید سنگین، قصبہ کے نزدیک دسہل جنگل شدید متاثر
متعدد علاقوں میں آگ بے قابو، رات بھر فائر فائٹنگ آپریشن جاری، سینکڑوں کنال اراضی متاثر
متعدد علاقوں میں آگ بے قابو، رات بھر فائر فائٹنگ آپریشن جاری، سینکڑوں کنال اراضی متاثر
سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری میں جنگلاتی آگ کی صورتحال دن بہ دن مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران نصف درجن سے زائد جنگلاتی علاقے آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ مسلسل بڑھتی آگ نے قیمتی جنگلاتی وسائل، سبزہ اور جنگلی حیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جبکہ مقامی لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔بدھ کی شام راجوری قصبے کے دسہل مہاری علاقے میں ایک بڑا جنگلاتی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جب شہر کے قریب واقع جنگل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ یہ جنگل ضلع ہیڈکوارٹر راجوری سے تقریباً چار کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے شدت اختیار کر لی اور جنگل کا ایک بڑا حصہ اس کی لپیٹ میں آ گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق جنگلات کی خشک زمین، شدید گرمی اور چیڑ کے درختوں کی موجودگی نے آگ کو مزید خطرناک بنا دیا۔ جنگل میں موجود خشک چیڑ کے پتے آگ کے لیے ایندھن ثابت ہوئے جس کے باعث شعلے تیزی سے مختلف حصوں تک پھیلتے گئے۔ لوگوں نے بتایا کہ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کچھ ہی دیر میں وسیع علاقہ دھوئیں اور شعلوں میں گھِر گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی جموں و کشمیر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کی راجوری اسٹیشن سے ٹیمیں فوری طور پر فائر ٹینڈر کے ساتھ موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا آپریشن شروع کیا گیا۔ فائر بریگیڈ اہلکاروں نے رات بھر مسلسل کارروائی جاری رکھی اور واٹر کینن کے ذریعے آگ پر قابو پانے کی کوششیں کیں۔ اگرچہ سڑک کے قریب موجود حصوں میں آگ کو کافی حد تک قابو میں کر لیا گیا، تاہم اندرونی جنگلاتی علاقوں میں آگ بدستور پھیلتی رہی جہاں رسائی نہ ہونے کے باعث کارروائی میں مشکلات پیش آئیں۔مقامی قبائلی باشندے اور بکروال برادری کے افراد بھی آگ بجھانے کی کارروائی میں شامل ہو گئے اور انہوں نے زمینی سطح پر فائر فائٹنگ ٹیموں کی مدد کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ جنگلات ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں اور ان کو پہنچنے والا نقصان براہ راست ان کی روزی روٹی اور ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دسال مہاری کے جنگلات میں تقریباً 150 کنال سے زائد رقبہ شدید متاثر ہوا ہے جبکہ نباتات اور جنگلی حیات کو ہونے والے نقصان کا مکمل تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ راجوری کے بتھونی جنگل، سندربنی کے ایگل پوائنٹ اور ضلع کے دیگر چار مقامات پر بھی تازہ جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔مقامی لوگوں نے کہا کہ اگر جلد بارش نہ ہوئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف بارش ہی اس آگ کے سلسلے کو روک سکتی ہے، ورنہ نقصان میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ ڈویژنل فارسٹ آفیسر راجوری نوید اقبال مغل کے مطابق ابتدائی اندازے کے تحت تقریباً 640 کنال جنگلاتی رقبہ متاثر ہوا ہے اور یہ نقصان مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ڈی سی راجوری نے جنگلاتی آگ سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا
احتیاطی اقدامات، فوری ردعمل اور عوامی بیداری مہم چلانے کی ہدایت
عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری، ابھشیک شرما نے ضلع میں مختلف مقامات پر پیش آنے والے حالیہ جنگلاتی آگ کے واقعات کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے کے سلسلے میں ایک جامع اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں جنگلاتی آگ کے اسباب، حفاظتی اقدامات اور متعلقہ محکموں کے درمیان تال میل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران ضلع ترقیاتی کمشنر نے تحصیل وار جنگلاتی آگ کے واقعات کا جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں سے احتیاطی تدابیر، فوری ردعمل کے نظام اور رابطہ کاری کے حوالے سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جنگلاتی آگ کے واقعات کی بروقت اطلاع رسانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔ابھشیک شرما نے کہا کہ جنگلات، جنگلی حیات اور انسانی جانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ جنگلات میں فائر لائنیں قائم کی جائیں، حفاظتی کھائیاں کھودی جائیں اور اہم مقامات پر چھوٹے آبی ذخائر تیار کیے جائیں تاکہ آگ لگنے کی صورت میں فوری طور پر اس پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے خشک چیڑ کے پتوں کو جنگلاتی آگ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے ان کی منظم صفائی اور تلفی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ ڈی سی نے جنگلاتی آگ کے بار بار پیش آنے والے واقعات پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے ڈویڑنل فارسٹ افسران کو ہدایت دی کہ ہر واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور جہاں لاپرواہی یا جان بوجھ کر آگ لگانے کے شواہد ملیں وہاں ایف آئی آر درج کی جائے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے عوامی بیداری مہمات چلانے کی بھی ہدایت دی تاکہ لوگوں کو جنگلاتی آگ کے ماحول، جنگلی حیات اور انسانی زندگی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ایمرجنسی رابطہ نمبرز اور ہیلپ لائن کی معلومات عوام تک وسیع پیمانے پر پہنچانے کی ہدایت دی۔