رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ کے عوام نے ایک بار پھر جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں جلد از جلد بجلی کا الگ ڈویژن قائم کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے نوشہرہ میں بجلی ڈویژن کھولنے اور اس کی منظوری دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم آج تک حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔عوامی حلقوں کے مطابق نوشہرہ میں بجلی ڈویژن نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بجلی سے متعلق سرکاری امور کے لیے راجوری جانا پڑتا ہے، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں، نئے کنکشن، خرابیوں کی شکایات اور دیگر تکنیکی معاملات کے حل کے لیے انہیں بار بار راجوری کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی باشندوں نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر میں جو بھی حکومت اقتدار میں آئی اس نے ہمیشہ نوشہرہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا، جس کے باعث یہ علاقہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور حکومت کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔سیٹھانی والوں اور دیگر مقامی لوگوں نے کہا کہ اگر نوشہرہ میں بجلی کا الگ ڈویڑن قائم کیا جاتا ہے تو اس سے ہزاروں لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور بجلی سے متعلق تمام سرکاری امور مقامی سطح پر ہی انجام دیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ محکمہ بجلی کے کام کاج میں بھی بہتری آئے گی۔علاقے کے سماجی کارکنوں اور معزز شہریوں نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے نوشہرہ میں جلد از جلد بجلی ڈویڑن قائم کرنے کے احکامات جاری کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور نوشہرہ کے عوام مزید نظر انداز کیے جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ان کے دیرینہ مطالبے کو سنجیدگی سے لے گی اور عوامی مفاد میں جلد فیصلہ کرتے ہوئے نوشہرہ میں بجلی ڈویژن قائم کرے گی تاکہ عوام کو راحت مل سکے اور علاقے کی ترقی کی راہ ہموار ہو۔