عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو این آئی اے کی جانب سے درج دہشت گردی سازش کے ایک مقدمے میں ضمانت دیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں میر واعظ نے اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خرم پرویز اور ان کے خاندان نے ان کی قید کے دوران برسوں تک مشکلات کا سامنا کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “لیکن جب کسی شخص کو عدالت سے ضمانت ملنے کے باوجود دوسرے مقدمات میں دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا ہے تاکہ وہ جیل میں ہی رہے، جیسا کہ ہم نے شبیر شاہ صاحب کے معاملے میں دیکھا، تو یہ انصاف کے مقصد کو بے معنی بنا دیتا ہے۔ امید ہے کہ خرم پرویز کے معاملے میں ایسا نہیں کیا جائے گا۔”میر واعظ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ “تمام سیاسی قیدیوں، نوجوانوں اور سینکڑوں دیگر افراد” کو، جو برسوں سے قانونی کارروائی کے انتظار میں جیلوں میں بند ہیں، راحت ملے گی اور وہ اپنے خاندانوں سے دوبارہ مل سکیں گے۔
سری نگر کے رکنِ پارلیمان روح اللہ مہدی کے دفتر نے بھی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک “اہم اور خوش آئند پیش رفت” قرار دیا۔رکنِ پارلیمان کے دفتر نے کہا کہ عدالت نے ایک بار پھر اس اصول کی توثیق کی ہے کہ “ضمانت ایک اصول ہے، استثنا نہیں” اور امید ظاہر کی کہ خرم پرویز کو ان کے خلاف 2020 میں درج دوسرے یو اے پی اے مقدمے میں بھی جلد ضمانت مل جائے گی۔
بیان میں کہا گیاکہ “خرم پرویز، ان کے خاندان اور قانونی ٹیم کو مبارکباد۔ ہماری مخلصانہ امید ہے کہ 2020 میں درج دوسرے یو اے پی اے مقدمے میں بھی انہیں جلد از جلد ضمانت ملے تاکہ برسوں کی حراست کے بعد وہ بالآخر آزاد ہو سکیں۔”خرم پرویز کو بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ نے این آئی اے کے مقدمے میں گرفتاری کے ساڑھے چار سال بعد ضمانت دی تھی۔ تاہم وہ فی الحال جیل میں ہی رہیں گے کیونکہ 2020 کے ایک اور این آئی اے مقدمے میں ان کی حراست برقرار ہے، جس میں انہیں 2023 میں، پہلے سے جیل میں ہونے کے دوران، باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔اس دوسرے مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست ابھی ٹرائل کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
میر واعظ نے خرم پرویز کو ضمانت ملنے کا خیرمقدم کیا، سیاسی قیدیوں کے لیے بھی راحت کی امید ظاہر کی