ایم شفیع میر
گول/سب ڈویژن گول میں پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں کی من مانی اور لوٹ کھسوٹ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ سومو، ایکو، آٹو اور ٹیمپو ڈرائیور سرکاری ریٹ لسٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے مسافروں سے من مانے کرائے وصول کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ محکمہ اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
مقامی لوگوں کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعد جب مختلف روٹس پر زمینی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ڈرائیور کھلے عام سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی کرایہ وصول رہے ہیں اور انہیں کسی قسم کا خوف یا جوابدہی محسوس نہیں ہو رہی۔
جاری کردہ سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق سنگلدان تا ٹھٹھارکہ کا کرایہ 31روپے مقرر ہے، تاہم اس روٹ پر چلنے والی تمام گاڑیوں کے ڈرائیور فی سواری 50 روپے وصول کر رہے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ سرنڈا، جو ٹھٹھارکہ سے چند کلومیٹر پہلے واقع ہے، وہاں تک جانے والے مسافروں سے بھی 50 روپے ہی وصول کئے جا رہے ہیں۔
اسی طرح گول تا اندھ سومو کا سرکاری کرایہ 46 روپے مقرر ہے، لیکن مسافروں سے 70 روپے تک وصول کئے جا رہے ہیں۔ گول تا داڑم براستہ سلبلہ کا کرایہ بھی ریٹ لسٹ کے مطابق 46 روپے ہے، مگر یہاں بھی 60 روپے وصول کئے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صرف سومو ہی نہیں بلکہ مختلف روٹس پر چلنے والے ٹیمپو ٹریولرز بھی مسافروں سے وہی کرایہ وصول رہے ہیں جو سومو ڈرائیور لیتے ہیں۔ گول تا بھیمداسہ براستہ کھینٹہ موڑ ٹیمپو کا سرکاری کرایہ 78 روپے مقرر ہے، لیکن مسافروں سے 150 روپے تک وصول کئے جا رہے ہیں۔
مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ بھیمداسہ روٹ پر چلنے والے ٹیمپو ڈرائیور مسافروں کو منزل تک پہنچانے کے بجائے تقریباً چار سے پانچ کلومیٹر پہلے ہی اتار دیتے ہیں اور آگے جانے سے انکار کر دیتے ہیں، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سنگلدان روٹ پر بھی ٹیمپو ڈرائیور سرکاری کرایہ 36 روپے کے بجائے زائد رقم وصول کر رہے ہیں، جبکہ صرف گول تا سنگلدان سومو سروس ہی کسی حد تک سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق کرایہ وصول کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ اضافی کرایہ وصولنے کے باوجود مسافروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑیوں میں ٹھونس کر لے جایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف انسانی وقار مجروح ہو رہا ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
مقامی آبادی نے اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورے سب ڈویژن میں ’’جنگل راج‘‘قائم ہو چکا ہو۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ نہ تو متعلقہ محکمہ اس جانب توجہ دے رہا ہے اور نہ ہی انتظامیہ کوئی کارروائی عمل میں لا رہی ہے۔
لوگوں نے آر ٹی او رام بن اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ من مانے کرائے وصولنے والے ڈرائیوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، سرکاری ریٹ لسٹ کو عوامی مقامات پر نمایاں کیا جائے اور عوام میں بیداری مہم چلائی جائے تاکہ لوگ اپنے حقوق سے واقف ہو سکیں۔عوام نے خبردار کیا کہ اگر جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو لوگ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔