بلا شبہ اعتماد ہی زندگی کی متحرک قوت ہے اور خود اعتمادی انسانی زندگی کو کامل بنادیتی ہے۔بغور جائزہ لیاجائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انسان اعتمادکے سہارے چلتے ہیں ،بینائی کے سہارے نہیں۔گویا اعتماد ہی انسان کا وہ حقیقی رہنما ہے جو اُسےاپنی منزل پر پہنچا دیتا ہے۔البتہ یہ بات انسان پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک خود پر اعتماد رکھ کے آگے بڑھتا ہے اور کس حد تک منفی سوچ کو اپنالیتا ہے۔جس نے بھی اپنے آپ پر اعتماد کرنا سیکھ لیا ہے،وہ بالآخراپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔اس لئےجو انسان جب تک کسی پہلو کو ہر طرح سے سوچ نہ لے،اُسے آگے قدم نہیں بڑھانا چاہئے،کیونکہ جہاں وہ اپنی منزل کو پانا چاہتا ہے ،وہیںوہ ناکامی کا خوف بھی اپنے دل و دماغ میں بٹھائے ہوتا ہے، جس کے نتیجے میںاُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کامیابی حاصل کرنے کے لئے اُسےاپنے اندر خوف کی فضا کو ختم کرنا پڑتا ہے۔ کیو نکہ وہ انسان کامیاب ہو ہی نہیں ہوسکتا، جس میں ناکامی کا خوف کامیابی کی چاہت سے زیادہ ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے دل و دماغ میں خود کو بلندیوں تک پہچانے کی خواہش کو اِس حد تک بڑھا دے کہ نیچے گرنے کا ڈر اُسے پریشان نہ کرے۔یاد رکھیں کہ سوچ انسان کی کامیابی اور ناکامی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔کیونکہ انسان جیسا سوچتا ہے اُسے ویسا ہی نظر آتا ہے، اگر ایک انسان مثبت سوچ اور مضبوط ارادوں کے ساتھ کسی کام میںکامیابی حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے تو ہار اُس کا مقدر نہیں بنتی۔ انسان اپنی ذہنی خیالات کی وجہ سے پہچاناجاتا ہے، جب وہ اپنے ارادوں کو مضبوط کرتا ہے تو کوئی اُسے ہرا نہیں سکتا، انسان تب ہار تا ہے جب وہ کوشش کرنا چھوڑ دیتاہے۔
نپولین جوایک کامیاب انسان تھا، اُس کی کامیابی کی کنجی یہی تھی کہ اُس کے ارادے مضبوط تھے۔ بقول ِ اُس کے ’’میری کامیابی میں میرے مضبوط ارادوں کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔‘‘ اس لئے انسان کواپنے ذہن سے منفی خیالات نکال دینے چاہئیں۔ظاہر ہے کہ انسان وہی کچھ کرتا ہے جو وہ سوچتا رہتا ہے،اس لئے زندگی کو خوشگوار اور کامیاب بنانے کے لئے اپنے اندر مثبت سوچ کی عادت پیدا کرنی چاہئے۔ ایک مشہور رومی فلاسفر نے کہنا ہے کہ ’’ ہماری زندگی ہمارے خیالات سے عبارت ہوتی ہے۔‘‘انسان کی فطرت میں جہاں یہ بات موجود ہے کہ وہ سوچتا ضرور ہے ،وہی انسان اسی سوچ کی برؤے کارلاتے ہوئے ماضی کوبھی یاد کرتا ہے۔ ماضی کو یاد کرکے جہاںاُسے تسکین ملتی ہے ،وہیں اُسے رنجیدہ اور پریشان بھی کردیتی ہے اور یہی پریشانی انسان کے مستقبل کے نیک اور مضبوط ارادوں کو بھی ڈولنے پر مجبور کردیتی ہے۔بے شک زندگی میں ترقی کرنے کے لئے باتیں،معلومات اور تجربات ذہن میں محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے،مگر ماضی میں گزرے نا خوشگوار واقعات کو یاد کرکے پریشان ہونے سے کچھ نہیں ملتا،جبکہ لازم یہی ہے کہ اگر کامیابی آپ کے قدم چومے تو ماضی کی حقیقتوں کو یاد کرکے اپنے ارادوں اور خیالات کو اچھے اور مثبت پہلو میں استعمال کریں، ماضی کے دُکھ ، پریشانی اور تلخیوں کو فراموش کر کے خوب سے خوب تر مستقبل کی جستجوکریں۔
ہار جانا،ناکام ہو جانا کوئی خاص بات نہیں، ضروری یہ ہے کہ پھر سے کھڑا ہو جانا،پچھلی بار ناکامی سے سبق سیکھ کر پھر سے کوشش کرتے رہنا اورجیتتے رہنا بہتر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو مزہ ہار کر اور ناکام ہو کر پھر سے ہمت کرکے کامیاب ہونے میں ہے ،اس کو بیان کرنا عموماًمشکل ہوتاہے۔منزل پر کامیابی اور رسائی صرف تب ہی ممکن ہے جب انسان ہمت اور حوصلہ ہارے بغیر راہوں کی مشکلات کو پار کرتا ہے۔ مشکلیں ہمیں جینا سکھاتی ہیں اور ناکامیاں،کامیابیوں کا بھر پور جشن منانے کا جذبہ دیتی ہیں۔ اگر ہم ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے زندگی گزاریں اور اپنے ارادوں کو مضبوط رکھتے ہوئے کوشش کرتے رہیں تو بہت سی ناکامیوں سے ہمیں نجات مل جاتی ہے ۔ ناکامی کا ڈر و خوف ہر وقت دماغ میں بٹھا کر زندگی گزار نا دراصل مشکلات کا پیغام دینے کے مترادف ہے۔ اپنی مثبت سوچوں کو عملی جامہ پہنائیں اور خود پر اعتماد حاصل کریں، انسان کی زندگی میں صرف خوشیاں ہی نہیں ہوتیں ،جومزہ پریشانی کے بعد خوشی ملنے کا ہے، اس کی بات ہی الگ ہوتی ہےاور جو کامیابی، ناکامی کے بعد حاصل ہو، اس کا مزہ دُگناہوجاتاہے۔المختصر زندگی میں سب سے مشکل سیکھنا اگر کچھ ہے تو وہ خود پر اعتماد کرنا سیکھنا ہے اور جس نے خود پر اعتماد کرنا سیکھ لیا، اس نے کامیابی کا سب سے بڑا راز پالیا ہے۔