گذشتہ ایک ڈیڑھ دہائی سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیابھر کے زیادہ تر ممالک میں ماحولیاتی بحران تواتر کے ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے۔بین الاقوامی معاہدوں کے تحت مختلف انسدادی کاروائیوں کے باوجود موسمیاتی تبدیلیاں آج کرۂ ارض میں موجود تمام مخلوقات کی زندگی اور بقاء کے لئے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔گلوبل وارمنگ، بے ترتیب بارشیں، شدید گرمی، طویل خشک سالی، غیر معمولی سردی، سطح سمندر میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع میں کمی دنیا بھر میں دیکھی جا رہی ہے،جبکہ گرمیوں میں ژالہ باری، مون سون کے موسم میں غیر معمولی خشکی، سردیوں میں غیر معمولی گرمی اور بھی کئی موسمی تبدیلیاں بڑے پیمانے پرہورہی ہیں۔جس کے نتیجے میں یورپ، امریکہ، ایشیا اور افریقہ کے بہت سے حصوں میں شدید سیلاب، جنگل کی آگ، گرمی کی لہروں اور خشک سالی میں اضافہ ہورہا ہےاور ہمالیہ کے علاقوں میں پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، لینڈ سلائیڈنگ، بادلوں کے پھٹنے اور طوفانی سیلابوں میں بڑھوتری ہورہی ہیں۔اس صورت حال کے پیش ِ نظر اگرچہ ہمارے ملک نے ماحولیات کو سازگار رکھنے اور ماحولیاتی بحران کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے کئی قوانین نافذ کئے اور مختلف اقدامات بھی اٹھائےہیںتاہم ان قوانین پر کہاں تک درست عملدر ہوا،یاآمد ہورہاہے اوراُٹھائے گئے اقدامات کے کتنے مثبت نتائج برآمد ہوئے یاہورہے ہیں،زمینی سطح پر نفی کے برابر ہی دکھائی دے رہے ہیں۔جبکہ ماہرین ماحولیات کا خیال ہے کہ اگر قدرتی وسائل کا موجودہ استحصال جاری رہا تو آنے والی دہائیوں میں پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کامعاملہ انتہائی سنگین ہوسکتا ہے۔ظاہر ہے کہ ماحولیات کے بحران سے نمٹنے کے لئےمحض ہر سال یوم ماحولیات منانے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا، بلکہ ماحولیاتی بیداری کو عملی شکل دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہےاور جب تک قدرتی وسائل کے غیر قانونی استحصال کے خلاف موثر کنٹرول قائم نہ کیا جائے، غیر قانونی کان کنی اور جنگلات کی کٹائی میں ملوث افراد کے خلاف منصفانہ کارروائی نہ کی جائے، انتظامی احتساب کو یقینی نہ بنایا جائے نیز شہریوں کی فعال شرکت میں اضافہ نہ کیا جائے،تب تک ماحولیاتی تحفظ کی تمام کوششیں کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی ہیں۔ اور ہاں!ماحولیاتی جرائم کو صرف معاشی جرائم کے طور پر نہ لیا جائےبلکہ آنے والی نسلوں کے حقوق کے خلاف جرائم کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت، عدلیہ، انتظامیہ، سائنسی برادری، سول سوسائٹی اور عام شہریوں کو مل کر ایک ایسا نظام وضع کرنا چاہئے، جس میں ترقی اور ماحولیاتی تحفظ، متضاد ہونے کی بجائے تکمیلی بن جائیں۔ساتھ ہی ہمیںاس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے کہ صاف ستھرا ماحول ایک آئینی قدر، انسانی حق اور تہذیب کی بنیاد ہے۔ فطرت کا تحفظ محض حکومتی پروگرام نہیں بلکہ قومی کردار کا سوال ہے۔ جب ہر شہری ماحولیاتی تحفظ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، جب انتظامیہ شفاف اور جوابدہ ہوجائے، جب قوانین کا سختی اور منصفانہ نفاذ ہوجائے اور جب قدرتی وسائل کو مافیا اور غیر قانونی استحصال سے آزاد کیاجائے،تب ایک صاف، محفوظ، صحت مند و باعزت ریاست اور ایک پائیدار نظام کی تعمیر ممکن ہو سکے گی۔ آج بھی ایسی بہت ساری خبریںمنظر عام پر آتی رہتی ہیں کہ مختلف علاقوں میں ریت کی غیر قانونی کانکنی، جنگلات کی کٹائی، زمینی پانی کا اندھا دھند استحصال، دریا کے کناروں کی تباہی اور جنگلاتی وسائل کی اسمگلنگ کاسلسلہ جاری ہے، کئی جگہوں پر نام نہاد ریت مافیا، جنگل مافیااور لینڈ مافیا منظم طریقے سے اپنا ناجائز اور غیرقانونی کام کرتے ہیں۔ تشویشناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حکومت اور انتظامیہ کے بعض عناصر پر اِن غیر قانونی سرگرمیوں کے تئیں غفلت، بے حسی یا ملی بھگت کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ نتیجتاً ماحولیاتی تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین اور پالیسیاں محض کاغذوں تک محدود رہتی ہیں اور ماحولیاتی توازن تواتر کے ساتھ بُری طرح متاثرہوتا چلا جارہا ہےاور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سنگین سے سنگین تر شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
����������������
قدرتی وسائل کا نقصان اور ماحولیاتی بحران