سید اعجاز
ترال//جنوبی کشمیر کے ترال میں نصف درجن کے قریب ایسا مقامات ہیں جو اپنی لا مثال خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہیں جن کی طرف اگر سرکار توجہ دے گئی تو یہاں روز گار کے وسائل پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سیلانیوں اور سیاحوں کوخوبصورت مقامات میں سیر کا موقع مل جاتا۔ترال قصبہ سے 50کلومیٹر دور ناگہ بیرن ایک انتہائی خوبصورت صحت افزا مقام ہے جو دلکش وادیوںکے ساتھ ساتھ دو پہاڑیوںاور مشہور جھیلوں تار سر اور مارسرکی آمجگاہ ہے۔تحصیل آری پل کے ستورہ زووستان کے راستے ہوتے ہوئے پہاڑوں کے بیچوں بیچ ہزاروں کنال اراضی پر پھیلے اوردرمیانی قدکے بھوج پترکے درختوںسے گھیرے ’’ناگہ بیرن ‘‘میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی یہاں آنے والے لوگ دل میں عجیب طرح کی کیفت طاری ہوتی ہے ۔ یہاں ہر طرف دل لبانے والے مناظر سامنے آتے ہیں۔ناگہ بیرن بھی شکارگاہ ترال کی طرح ایک قدیم صحت افزا مقام ہے جہاں ہرہی سنگھ دور کے کچھ تعمیرات موجود تھے تاہم وادی میں نامسائد حالات شروع ہونے کے ساتھ ہی ان تعمیرات کو آگ لگا کر ختم کیا گیا جہاں ان عمارتوں کے کھنڈرات اب موجود ہیں ۔ان تعمیرات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جگہ بھی سیر سپاٹے کے لئے اعتبار سے کافی پرانی جگہ ہے ۔زبردست عوامی مانگ کے باجود حکومتوں نے اس جگہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے اور یہ انتہائی خوبصورت علاقہ مسلسل سرکار کی نظروں سے اوجھل ہے۔لوگوں کا کہنا ہے ناگہ بیرن کو سیاحتی مقام کا درجہ دینے سے علاقے میں روز گار کے وسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اگر چہ تاحال گزشتہ75سال سے اس جگہ کی طرف سرکاری جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے تاہم گزشتہ کئی سال سے خاص کر جب سے سوشل میڈیا یہاں وجود میں آیایہاں وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی پہلگام ،گلمرگ یا دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ گرمیوںمیں ناگہ بیرن میں خیمے لگا کر گزارتے تھے ۔علاقے میں دہائیوں سے اس مقام کو بہک کے طور استعمال کرنے والے لوگوں نے بتایا پہلے پہل یہاں بہت کم لوگ یا کچھ غر ملکی سیاح پہنچتے تھے تاہم اب گرمی کے دن شروع ہونے کے ساتھ یہاں نوجوانوں کے علاوہ مختلف اعلیٰ سرکاری عہدہ دار بھی پہنچتے ہیں اور اس لا مثال حسن سے مالا مال جگہ سے لطف اندوز ہو کر دل کو ترات ہونے کے بعد واپس جاتے ہیں ۔چند سال پہلے سابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ترال نے بھی اپنے چند ماتحت عملے کے ہمراہ علاقے کا دورہ کیا اور ایک منصوبہ تیار کر کے حکام کو پیش کیا تھا۔ناگہ بیرن بھوج پترکے ،(برز) جن کے باریک چھلکے جن کوپرانے زمانے میں کاغذ کے طور استعمال کیا جاتاتھا جبکہ یہاں موجود تار سر اور مار کا منظر صبح اور شام کے اوقات کے دوران انتہائی خوبصورت ہوتاہے جہاں لوگ دونوں اوقات کے دوران اس خوبصورتی کا نظارہ کرتے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے ناگہ بیرن تک سڑک تعمیر کرنے کا اگر منصوبہ کیا جائے ترال سے کم لاگت اور کم وقت میں پہنچنے والی سڑک تعمیر ہو سکتی ہے ۔معروف معالج و آئینہ ترال کے مصنف جنہوں نے اپنی کتاب میں بھی ناگہ بیرن کی ذکر کی اور انگریزی شمارے میں یہاں موجود پرانے بنگلوں کی تصویر بھی شائع کی ہے انہوں نے بتایا کہ ’’ میں نے کتاب کے لئے مواد جمع کرنے کے دوران اس جگہ کئی روز تک قیام کیا ہے انہوں نے بتایا کہ میرا ماننا ہے کہ اگر اس جگہ کو بڑھاوا دیا جائے لوگ جموںو کشمیر کے سبھی سیاحتی مقامات کو بھول جائیں گے۔ حالیہ اسمبلی سیشن کے دوران ممبر اسمبلی ترال رفیق احمد نائیک کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے بتایا کہ ترال کے سیاحتی مقامات کو مرحلہ وار بنیادوں پر بڑھاوا دیا جائے گا۔