کشتواڑ میںخودکار موسمیاتی سٹیشن اورسیسمولوجی سینٹرقائم کیا جائے گا:ڈاکٹر جتندر سنگھ
عظمیٰ نیوزسروس
جموں //مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں میں نئے علاقائی محکمہ موسمیات مرکز (ریجنل میٹرولوجیکل سینٹر)کا افتتاح کیا اور اعلان کیا کہ اسی طرز کا ایک اور مرکز جلد ہی لکھنؤ میں قائم کیا جائے گا، جس سے ملک میں علاقائی موسمیاتی پیش گوئی کے نظام کو مزید وسعت ملے گی۔جموں میں قائم یہ مرکز ملک کا ساتواں علاقائی موسمیاتی مرکز ہے اور یہ جموں و کشمیر، لداخ اور ہماچل پردیش کو موسمیاتی خدمات، قدرتی آفات سے متعلق پیشگی انتباہات اور موسمیاتی معاونت فراہم کرے گا، جو بالخصوص ہمالیائی خطے کی ضروریات کے مطابق ہوگی۔اس موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نیا مرکز متنوع جغرافیائی خصوصیات رکھنے والے اس خطے میں موسمی نگرانی، پیش گوئی اور ابتدائی انتباہی نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔ مرکز کی جانب سے ضلع وار موسمی پیش گوئیاں، پہاڑی علاقوں کی مخصوص موسمی معلومات، سیاحوں کے لیے خصوصی مشورے، شہروں کے لیے علیحدہ موسمی خدمات اور اچانک آنے والے سیلاب، بادل پھٹنے، برفانی تودے گرنے، شدید برفباری، گرج چمک اور لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق بروقت انتباہات جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان خدمات سے امرناتھ یاترا اور ماتا ویشنو دیوی یاترا کے یاتریوں، کسان، ٹرانسپورٹ آپریٹرز، پن بجلی منصوبے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے اور دشوار گزار علاقوں میں تعینات سیکورٹی فورسز کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جموں و کشمیر اور لداخ میں موسمیاتی ڈھانچے میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ سنہ 2014 میں خطے میں ایک بھی ڈوپلر ویدر ریڈارموجود نہیں تھا، جبکہ اب جموں، سری نگر، لیہہ اور بانہال ٹاپ پر چار ریڈار فعال ہیں۔ اس کے علاوہ مشن موسم کے تحت اننت ناگ، راجوری، بارہمولہ، کشتواڑ اور ڈوڈہ میں مزید پانچ ڈوپلر ریڈار نصب کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی مشاہداتی نیٹ ورک میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت خطے میں 56 موسمیاتی مراکز فعال ہیں جن میں 15دستی مشاہداتی مراکز، 25خودکار موسمیاتی اسٹیشن (AWS) اور 16خودکار بارش پیما (ARG) شامل ہیں۔ 2014 میں یہ تعداد بالترتیب 13اور 14تھی۔حال ہی میں کرگل، رام بن کے اُکھرال اور ماتا ویشنو دیوی بھون میں نئے خودکار موسمیاتی سٹیشن نصب کیے گئے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے دوران مزید آٹھ AWS اور پانچ ARG قائم کیے جانے کی توقع ہے۔ روزانہ بارش کی نگرانی کے مراکز کی تعداد بھی 30سے بڑھ کر 85ہو گئی ہے، جس سے بارش کی نگرانی اور پیش گوئی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آر ایم سی جموں کا قیام محکمہ موسمیات ہند کے علاقائی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ اب تک دہلی کا علاقائی مرکز جموں و کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان کے موسمیاتی امور کی نگرانی کرتا تھا۔ نئے مرکز کے قیام کے بعد جموں و کشمیر، لداخ اور ہماچل پردیش کی خدمات جموں سے چلائی جائیں گی، جبکہ مجوزہ لکھنؤ مرکز اتر پردیش اور اتراکھنڈ کی ذمہ داری سنبھالے گا۔وزیر موصوف نے بتایا کہ سری نگر موسمیاتی مرکز نےسکاسٹ جموں، سکاسٹ کشمیراوراسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ تحقیقی اور تربیتی تعاون کے معاہدے بھی کیے ہیں تاکہ موسمیات اور آب و ہوا کے شعبے میں تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پٹنی ٹاپ میں سوئس سائنسی اداروں کے اشتراک سے ہائی آلٹی ٹیوڈ کلاؤڈ فزکس لیبارٹری قائم کی گئی ہے جہاں ہمالیائی خطے میں بادلوں اور فضائی ذرات پر تحقیق کی جا رہی ہے۔زلزلہ پیما نظام کے حوالے سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیسمولوجیکل نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ جموں اور کشمیر کے زلزلہ مراکز کو ڈیجیٹل نظام سے جوڑا گیا ہے جبکہ ادھم پور میں ایک نیا مرکز قائم کیا گیا ہے۔ کشتواڑ میں بھی ایک نئے زلزلہ پیما مرکز کی تجویز زیر غور ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ گزشتہ سال کشتواڑ میں پیش آنے والی قدرتی آفت کے تناظر میں وہاں ایک خودکار موسمیاتی اسٹیشن اورسیسمولوجی سینٹربھی قائم کیا جائے گا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ سری نگر موسمیاتی مرکز، جو ایک صدی سے زائد عرصے سے خدمات انجام دے رہا ہے، کو عالمی محکمہ موسمیات نے ’’صد سالہ مشاہداتی مرکز‘‘ کا درجہ دیا ہے۔
ملہوری ڈوڈہ میںعوامی دربار ،کئی مسائل برسر موقع حل
عظمیٰ نیوزسروس
ڈوڈہ //مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز، نیز وزیر مملکت وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپنے پارلیمانی حلقے میں عوامی رابطہ مہم کے تحت ضلع ڈوڈہ کے گاؤں ملہوری میں ایک عوامی دربار منعقد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف علاقوں سے آئے شہریوں، عوامی نمائندوں اور وفود سے ملاقات کی اور ان کے مسائل، شکایات اور ترقیاتی مطالبات کو بغور سنا۔عوام کی جانب سے اٹھائے گئے متعدد مسائل موقع پر ہی حل کیے گئے، جبکہ دیگر معاملات کے فوری ازالے کے لیے متعلقہ محکموں کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔اس موقع پر رکن اسمبلی شکتی راج پریہار اور دیگر مقامی منتخب نمائندے بھی موجود تھے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ، سینئرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی)، مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران اور مرکزی ایجنسیوں بشمول این ایچ آئی ڈی سی ایل اور این ایچ اے آئی کے نمائندے شریک ہوئے۔پروگرام میں ڈوڈہ قصبے اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ عوام نے سڑک رابطہ، پینے کے پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات، تعلیمی نظام، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، روزگار کے مواقع اور مختلف فلاحی اسکیموں کے نفاذ سے متعلق مسائل اجاگر کیے۔ضلعی انتظامیہ اور مختلف محکموں، جن میں دیہی ترقی، محکمہ تعمیرات عامہ، جل شکتی، صحت، تعلیم، محکمہ بجلی اور سماجی بہبود شامل ہیں، کے افسران بھی عوامی دربار میں موجود رہے اور متعدد شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں عوامی فلاح پر مبنی حکمرانی اور مؤثر شکایت ازالہ نظام کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عوامی درباروں کا مقصد انتظامیہ اور عوام کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنا اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا، ’’حکومت عوام کی دہلیز تک حکمرانی پہنچانے پر یقین رکھتی ہے۔ اس نوعیت کے عوامی رابطہ پروگرام شفافیت، جوابدہی اور انتظامی نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں۔‘‘مرکزی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ چناب خطے، بالخصوص ضلع ڈوڈہ کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے اور رابطہ کاری کے متعدد بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں تاکہ عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے یقین دلایا کہ انتظامیہ کے سامنے پیش کیے گئے تمام جائز مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور ان کے حل کے لیے مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومتی سکیموں کا مؤثر نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے فوائد ہر مستحق فرد تک پہنچ سکیں۔