عظمیٰ نیوز سروس
جموں// جموں کے تاریخی مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس کے باہر واقع تقریباً 200 سال قدیم گدادھر مندر کی دیوار کا ایک حصہ بارش کے بعد جمعرات کو اچانک منہدم ہو گیا، جس کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی باشندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مندر کے نزدیک جاری کھدائی اور بحالی کے کام کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بھگوان وشنو اور لکشمی کے نام سے منسوب یہ مندر انیسویں صدی کے وسط میں مہاراجہ گلاب سنگھ کے دورِ حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا۔ مندر کا انتظام و انصرام دھرمارتھ ٹرسٹ کے پاس ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مندر میں دیوار گرنے سے محض 10 سے 20 منٹ قبل ایک ’’بھنڈارا‘‘ (اجتماعی دعوت) منعقد ہوئی تھی۔ مقامی شہری رام ماگوترا نے کہا، ’’خدا کے فضل سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اگر دیوار کچھ دیر پہلے گر جاتی تو ایک بڑا سانحہ رونما ہو سکتا تھا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ مندر کے باہر موجود تنگ گلی سے روزانہ بڑی تعداد میں لوگ، بشمول بچے اور بزرگ، گزرتے ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ مبارک منڈی محل کمپلیکس کی طویل عرصے سے جاری بحالی کے منصوبے کے تحت ہونے والی کھدائی، جس میں پارکنگ کی تعمیر بھی شامل ہے، نے مندر کی ساخت کو کمزور کر دیا اور دیوار کے گرنے کا سبب بنی۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تاریخی عمارتوں کے قریب جاری کھدائی کے طریقہ کار پر پہلے بھی اعتراضات اٹھائے گئے تھے، لیکن متعلقہ حکام نے انہیں نظر انداز کر دیا۔ واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ دیوار گرنے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی جانچ کرائی جائے اور اردگرد کے علاقے کو محفوظ بنایا جائے تاکہ مزید نقصان یا کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔رام مگوترا نے بحالی کے منصوبے سے وابستہ اداروں پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مناسب مٹی جانچ اور عمارت کی مضبوطی کا جائزہ لیے بغیر گہری کھدائی کی گئی۔ ان کے مطابق حکام نے یہ جانچنے کی زحمت نہیں کی کہ آیا مندر کی قدیم دیواریں اس نوعیت کی کھدائی کے اثرات برداشت کر سکتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے منصوبے کی نگرانی کرنے والے افسران کے خلاف جوابدہی کا بھی مطالبہ کیا۔ مگوترا نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ علاقے میں ریستوران سمیت تجارتی سہولیات قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، اور کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی خاطر عوامی سلامتی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ مبارک منڈی کمپلیکس، جو ڈوگرہ حکمرانوں کی سابق شاہی رہائش گاہ رہا ہے، کئی برسوں سے بحالی اور تحفظ کے مختلف منصوبوں کے تحت زیرِ تعمیر و مرمت ہے تاکہ اس کی تاریخی اور تعمیراتی اہمیت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم مقامی لوگوں کے الزامات پر حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔