پرویز احمد
سرینگر //وادی کے بیشتر سرکار اسپتالوں میں ویل چیئر اور ٹرولیز کی عدم دستیابی کی وجہ سے جہاں مریضوں کو سختت مشکلات کا سامنا ہے وہیں تیمارداروں کو بیشتر اسپتالوں میں ویل چیئر اور ٹرولیز کی کمی کی وجہ سے تیمارداروں کو اپنے کندوں پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔ محکمہ صحت نہ صرف خصوصی صلاحیتوں کے مالک لوگوں کیلئے بنائے گئے (آر پی ڈبلو ڈی) ایکٹ 2016کی خلاف ورزی کررہے ہیں جس میں معزور یا خصوصی لاحیت کے مالک تمام لوگوں کو معیاری طبی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر بینک سمیت وادی کی گئی رضاکار تنظمیوں کے علاوہ سرکار نے بھی تمام اسپتالوں میں ٹرولیز اور ویل چیئروں کی سہولیت دستیاب رکھی ہے لیکن سرکاری اسپتالوں کی اپنی ویل چیئر اور ٹرولیز کی تعداد کافی کم ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف خصوصی صلاحیتوں کے مالک مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ عمر رسیدہ افراد، جراحی کرانے والے مریضوں، زخمی افراد اور ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو اسپتالوں میں ایک شعبہ سے دوسرے شعبہ تک منتقل کرنے کیلئے نہ تو ویل چیئر اور نہ ہی ٹرالیز وافر مقدار میں موجود ہیں۔ وادی کے بیشتر ضلع اسپتالوں میں سینئر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر ضلع اسپتال میں ویل چیئر اور ٹرولیز موجود ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ضلع اسپتال پلوامہ میں مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کیلئے صرف 10ویل چیئر اور 12ٹرولیز موجود ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسپتال روزانہ علاج و معالجہ کیلئے آنے والے 300سے زائد مریضوں کیلئے 10ویل چیئر اور ٹرولیز بہت کم ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ چند مریضوں ، تیمارداروں اور رضاکار تنظیموں کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں ابھی بھی مریضوں کو وہیل چیئر مل جاتی ہے۔ کولگام ضلع اسپتالوں میں مریضوں کیلئے وہیل چیئر موجود ہیں لیکن مریضوں کے رشت کو دیکھتے ہوئے یہاں بھی وہیل چیئر اور ٹرولیز کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ضلع اسپتال کولگام ڈاکٹر گلزار احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ اسپتال میں کچھ وہیل چیر اور ٹرولیز موجود ہیں لیکن یہاں آنے والے مریضوں کی تعداد کے حساب سے دیکھیں تو کم ہے ‘‘ انہوں نے کہا کہ سرکار اسپتالوں میں ٹرولیز اوروہیل چیئر زیادہ تر یا تو عطیہ کی صورت میں آتی ہیں یا پھر رضاکار تنظمیں مریضوں کیلئے دستیاب رکھتے ہیں۔ جی ایم سی بارہمولہ میں بھی مریضوں بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے وہیل چیئروں اور ٹرولیز کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ جی ایم سی بارہمولہ کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر پرویز معسودی کا کہنا ہے کہ وہیل چیئر اور ٹرولیز کی کمی ہمیشہ محسوس نہیں ہوتی بلکہ اس دن کم ہوتی جب ایمرجنسی میں سخت علیل مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہیل چیئر اورٹرولیز کی کمی رضاکار تنظیموں اور لوگوں کی جانب سے عطیہ کی گئی ٹرولیز اور وہیل چیئر سے کام چلا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر وہیل چئیر فراہم کی جائے تو مریضوں کو راحت نصیب ہوگی۔یہ صورتحال وادی کے دیگر سرکاری اسپتالوں کی بھی ہے ۔ چند ضلع اسپتالوں میں معالجین نے بتایا کہ ٹرولیز اور وہیل چیئروں کی کمی کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ اکثر اسپتالوں کے منتظمین وہیل چیئروں اور ٹرولیز کیلئے رضاکار تنظیموں اور مریضوں کے عطیہ پر ہی منحصر کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کی تعداد ان چیزوں کو عطیہ کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔