حجاج کرام میدان عرفات کی طرف روانہ
جدہ //سعودی عرب میں حج 1447 ہجری کے مناسک کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ لاکھوں عازمینِ حج احرام باندھ کر مکہ سے منی پہنچ چکے ہیں جہاں وہ خیموں کی بستی میں قیام کر کے عبادات میں مصروف ہیں۔ عازمین حج نے پیر کو خیموں کے شہر منی کا سفر شروع کر دیا جہاں وہ آج رات بھر قیام کریں گے۔ سالانہ حج میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے ایک اعشاریہ پانچ ملین سے زیادہ عازمین حج سعودی عرب آئے ہیں۔ عازمین کی ایک بڑی تعداد نے اتوار کی شام کو خیموں کے شہر کی طرف پیدل چلنا شروع کیا کیونکہ لازمی قیام اور مخصوص نمازوں کی ادائیگی پیر کی دوپہر سے شمار کی جاتی ہے۔ یوم ترویہ (اسلامی تقویم کے مطابق 8 ذی الحجہ کا دن)میں سعودی عرب اور پڑوسی خلیجی ممالک سے تقریباً 5 لاکھ عازمین شامل ہوں گے۔یوم ترویہ اسلامی تقویم کے مطابق آٹھ ذی الحجہ کا دن ہوتا ہے۔ یہ فریضہ حج کا پہلا دن ہوتا ہے جب عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے منی روانہ ہوتے ہیں اور وہاں ظہر سے لے کر نو ذی الحجہ (یوم عرفہ)کی فجر تک پانچ نمازیں ادا کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔
یومِ ترویہ (8 ذوالحجہ)
عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے منی روانہ ہوتے ہیں۔منی میں ظہر، عصر، مغرب، عشا اور فجر کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں اور پورا دن اور رات ذکرِ الہی میں گزاری جاتی ہے۔
وقوفِ عرفہ (9 ذوالحجہ )
حج کا رکنِ اعظم سورج طلوع ہونے کے بعد عازمین میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔یہاں مسجدِ نمرہ میں خطبہ حج دیا جاتا ہے اور ظہر و عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جاتی ہیں۔زوال سے لے کر غروبِ آفتاب تک وقوفِ عرفہ (اللہ تعالی سے دعائیں اور استغفار) کیا جاتا ہے، جو حج کا سب سے اہم رکن ہے۔
مزدلفہ میں رات کا قیام
(9ذوالحجہ کی رات)غروبِ آفتاب کے بعد حجاج بغیر نماز پڑھے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔یہاں مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جاتی ہیں اور رات کھلے آسمان تلے گزاری جاتی ہے۔ یہیں سے جمرات(شیطان)کو مارنے کے لیے کنکریاں چنی جاتی ہیں۔
یومِ النحر اور رمی
(10 ذوالحجہ)فجر کی نماز کے بعد حجاج واپس منی آتے ہیں اور بڑے شیطان (جمرہ عقبہ)کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔کنکریاں مارنے کے بعد قربانی کی جاتی ہے، مرد حضرات اپنے سر منڈواتے ہیں یا بال کٹواتے ہیں اور احرام کھول کر عام لباس پہن لیتے ہیں۔اس کے بعد مکہ مکرمہ جا کر بیت اللہ کا طواف(طوافِ افاضہ) اور صفا و مروہ کے درمیان سعی ادا کی جاتی ہے۔
ایامِ تشریق
(11، 12 اور 13 ذوالحجہ)حجاج کرام منی میں واپس قیام کرتے ہیں۔ان تین دنوں میں زوال کے بعد تینوں جمرات(جمرہ اولی، وسطی اور عقبہ)کو سات سات کنکریاں روزانہ ماری جاتی ہیں۔
طوافِ وداع اور اختتام
(13 ذوالحجہ)مناسکِ منی مکمل کرنے کے بعد حجاج مکہ مکرمہ واپس آکر خانہ کعبہ کا الوداعی طواف کرتے ہیں۔اس آخری رکن کی ادائیگی کے ساتھ ہی فریضہ حج مکمل ہو جاتا ہے اور زائرین اپنے وطن واپسی کے سفر کی تیاری کرتے ہیں۔