عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو “ٹورسٹ اِن چیف” قرار دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سنیل کمار شرما نے ہفتے کے روز کہا کہ وزیر اعلیٰ کا کیلنڈر عام آدمی کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے فائلوں کو نمٹانے کے بجائے غیر ملکی دوروں سے بھرا ہوا ہے۔شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گزشتہ 10 دنوں سے لاپتہ ہیں اور وہ جموں و کشمیر جیسی حساس ریاست کے منتخب سربراہ سے زیادہ ایک عالمی مسافر کی طرح برتا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی جلد ہی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائے گی۔ “ہم عمر عبداللہ کی گمشدگی پر پولیس سٹیشن رام منشی باغ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرنے جا رہے ہیں۔ ہم قانونی ماہرین سے اس بات پر بھی بات کر رہے ہیں کہ آیا ہم عمر عبداللہ کو جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے ہیبیس کارپس پٹیشن دائر کر سکتے ہیں”۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایک سیاح کی طرح برتا کر رہے ہیں حالانکہ وہ خود 18 محکموں کے وزیر انچارج ہیں جن میں فائنانس، پاور ڈیولپمنٹ، جنرل ایڈمنسٹریشن، ٹورازم، ریونیو اور کئی دیگر شامل ہیں۔ “میرے جیسا ایک عام انسان ایک یا دو سے زیادہ محکموں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا، لیکن وہ ایک ‘سپر مین’ ہے اور وہ خود 50 فیصد انتظامی محکموں کو کنٹرول کرتا ہے، جب آپ کے پاس 50 فیصد محکموں کا کنٹرول ہے تو آپ سول سیکرٹریٹ کو چھوڑ کر لندن اور دیگر اعلیٰ ترین مقامات کے غیر ملکی دوروں پر کیسے بھاگ سکتے ہیں؟”۔ایل او پی نے مزید کہا کہ عمر عبداللہ کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند ماہ قبل وہ ہائی وے پر پھنسے ہوئے سیب کی کھیپ کے ساتھ ایک غیر معمولی بحران کا سامنا کرنے والے کشمیری کاشتکاروں کے درمیان پیرس جانا چاہتے تھے۔شرما نے کہا، “جب ہائی وے بند تھی اور ہمارے کاشتکار رو رہے تھے، ہمارے وزیر اعلیٰ نے پیرس کے سیاحتی مقامات کے دورے پر جانے کا منصوبہ بنایا، لیکن تنقید کا سامنا کرنے کے بعد انہیں یہ منصوبہ ترک کرنا پڑا،” ۔؎