بلال فرقانی
سرینگر//حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کیلئے سخت کفایت شعاری پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت مختلف معاملات میں نمایاں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری حکم نامہ کے مطابق تمام سرکاری محکموں کو فوری طور پر سخت مالی احتیاطی اقدامات اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ جموں کشمیرسے باہر سیمیناروں، کانفرنسوں، ورکشاپوں اور نمائشوں کے انعقاد کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جبکہ نجی ہوٹلوں اور کمرشل مقامات پر سرکاری اجلاسوں کے انعقاد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب تمام سرکاری سرگرمیاں صرف سرکاری عمارتوںمیں منعقد کی جائیں گی۔ اسی طرح سرکاری ظہرانوں و عصرانوں،استقبالیہ اور دیگر مہمان نوازی کی تقریبات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے منعقدہ تقریبات اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
حکومت نے نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری کو سختی سے محدود کر کے صرف غیر معمولی صورتوں میں محکمہ خزانہ کی منظوری سے مشروط کردی ہے۔ تمام محکموں کو موجودہ گاڑیوں کے بہتر استعمال اور اشتراکی نظام کے تحت اخراجات کم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکم نامے کے مطابق بیرون ملک سرکاری دوروں کیلئے محکمہ خزانہ کی خصوصی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ اندرون ملک سفر کیلئے تمام افسران کو اکانومی کلاس میں سفر کرنا ہوگا، خواہ ان کا عہدہ کوئی بھی ہو۔ ویڈیو کانفرنسنگ اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کو بھی ترجیح دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔توانائی کے اخراجات کم کرنے کیلئے دفاتر میں غیر ضروری بجلی، ایئرکنڈیشنروں، جنریٹروں اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی کاغذ کے استعمال میں کمی اور ڈیجیٹل فرسٹ گورننس کے نفاذ پر زور دیا گیا ہے۔محکمہ خزانہ نے نئے دفاتر کے کرائے پر حصول پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جبکہ صرف نئے قائم شدہ دفاتر کیلئے فرنیچر کی خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔ پرانا فرنیچر اور غیر استعمال شدہ گاڑیاں نیلام کر کے آمدنی سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ نئی اسامیوں کے قیام پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ2سال سے زائد عرصے سے خالی اسامیوں کو ختم یا واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ کنسلٹنٹوں، آئوٹ سورسنگ ایجنسیوں اور کنٹریک سروسز کی تعیناتی بھی محکمہ خزانہ کی پیشگی منظوری سے مشروط ہوگی۔حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے کسی منصوبے یا سکیم پر مالی منظوری نہیں دی جائے گی جو پہلے سے منظور شدہ بجٹ کا حصہ نہ ہو۔ غیر ترجیحی ترقیاتی منصوبوں، تزئین و آرائش اور دیگر غیر ضروری کاموں پر بھی سخت پابندی لگائی گئی ہے۔انتظامی سیکریٹریز کو ان احکامات پر مکمل عملدرآمد کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جبکہ فائنانس ڈائریکٹروںاور فنانشل ایڈوائزروں کو باقاعدہ رپورٹنگ اور نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مالی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔