امریکی وزیر خارجہ 4روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے، وزیر اعظم سے ملاقی
ایجنسیز
نئی دہلی // ۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتہ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم کو مستقبل قریب میں وائٹ ہاس کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔اس پیشرفت کا اعلان ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کیا، جہاں انہوں نے کہا ” سکریٹری مارکو روبیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو مستقبل قریب میں وائٹ ہاس کا دورہ کرنے کا دعوت نامہ دیا‘‘۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہندوستان کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر پہنچنے کے بعد ہفتہ کو یہاں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ۔اس دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو دوبارہ ترتیب دینا ہے جو پچھلے سال کے وسط سے سرد مہری کا سامنا کر رہے ہیں۔
اعلی امریکی سفارت کار نئی دہلی میں کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کے علاوہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ وسیع پیمانے پر بات چیت کرنے والے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے مغربی ایشیا کی صورتحال سمیت مختلف علاقائی اور عالمی مسائل پر امریکی نقطہ نظر کا بھی اظہار کیا۔وزیر اعظم مودی نے امن کی کوششوں کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت کو دہرایا۔ انہوں نے روبیو سے صدر ٹرمپ کو گرمجوشی سے مبارکباد دینے کی بھی درخواست کی اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ مسلسل تبادلے کے منتظر ہیں۔روبیو نے صبح کولکتہ پہنچنے کے بعدمدر ٹریسا کے مشنریز آف چیریٹی کا صدر دفتر کا دورہ کیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جسیوال نے ایکس پر کہا” ان کا دورہ ہندوستان-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید تقویت دے گا،” ۔سکریٹری خارجہ پیر کو آگرہ اور جے پور کا سفر کریں گے اور منگل کی صبح کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے لیے دہلی واپس آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین سے مغربی ایشیا کے بحران اور توانائی کی فراہمی سمیت اس کے اقتصادی اثرات پر بھی غور و خوض کی توقع ہے۔روبیو کا ہندوستان کا دورہ پانچ ہفتوں کے بعد ہوا جب سکریٹری خارجہ وکرم مصری نے واشنگٹن ڈی سی کا تین روزہ دورہ کیا جس میں غیر یقینی صورتحال اور تنا ئوکے بعد تعلقات کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔واشنگٹن کی جانب سے بھارت پر تعزیری محصولات عائد کرنے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ مئی میں پاک بھارت فوجی جھڑپوں کو کم کرنے میں اپنے کردار کے حوالے سے متنازعہ دعوے کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بڑی تنزلی دیکھنے میں آئی۔