اشرف چراغ
کپوارہ// شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں جہا ں پہلے ہی سرکاری سکولو ں میں تدریسی عملے کی شدید قلت پائی جارہی ہے وہیں حد متارکہ پر واقع کیرن علاقے میں قائم ہائر سکینڈری سکول میں پرنسپل کی کرسی دو سال سے خالی پڑی ہے جبکہ تدریسی عملے کی بھی قلت ہے جس کے نتیجے میں سکول میں زیر تعلیم طلاب کا مستقبل دائو پر ہے۔نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق دور دراز علاقوں میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے مختلف جدید اور روایتی طریقوں کا استعمال کیا جارہا ہے جن کا مقصد تعلیمی سہولیات کو ہر بچے تک پہنچانا ہے لیکن سرحدی علاقہ کیرن میں قائم ہائر سکینڈری سکول میں اس قسم کی کوئی سہولیات نہیں ہے۔کیرن کے طلبہ علاقہ میں ہائر سکینڈری سکول کی عدم دستیابی کی وجہ سے یا تو اپنی تعلیم ترک کر دیتے تھے یا پھر میلیال کیرن کی دشوار گزار سڑک سے گزر کر کرالہ پورہ یا لون ہرے میں اپنی تعلیم حاصل کرتے تھے لیکن کئی سال قبل سرکار نے علاقہ میں ایک ہائر سکینڈری سکول قائم کر کے یہاں کے لوگو ں کی دیرانہ مانگ پوری کی۔کیرن ہائر سیکنڈری سکول کے لئے 11لیکچر آرو ں کی اسامیو ں کو منظوری بھی دی گئی لیکن آج تک بھی کیرن ہائر سکینڈری سکول میںمکمل طور لیکچر آروں کی اسامیو ں کو پر نہیں گیا گیا۔کیرن ہائر سکینڈری سکول میں اس وقت 11لیکچر آرو ں کے بجائے ایک لیکچر آر تعینات ہے جبکہ دوسرے 10اسامیا ں خالی پڑی ہیں۔محکمہ تعلیم کپوارہ کی انتظامیہ نے سکول میں تدریسی عملے کی کمی کو دور کرنے کے لئے عارضی انتظام تو کیا لیکن مزکورہ ہائر سکینڈری سکول میں مکمل طور تدریسی عملے کو تعینات کرنا وقت کی ضرورت ہے۔علاقے کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ ہر سال محکمہ تعلیم اپنی داخلہ مہم چلا کر زیادہ سے زیادہ بچو ں کو سرکاری سکولو ں میں داخلہ دلانے میں کامیاب ہو گئے لیکن دور درازکیرن جیسے علاقو ں میں تدریسی عملے کی قلت کی وجہ سے داخلہ میں کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔