عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//مغل شاہراہ پرچتھاپانی کے قریب پیش آنے والے ایک المناک سڑک حادثے میں باپ بیٹے سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حالیہ برفباری کے باعث سڑک پر پیدا ہونے والی شدید پھسلن کو اس حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ بدقسمت گاڑی پیر کی شام مغل شاہراہ پر لاپتہ ہو گئی تھی، جسے منگل کی شام ایک گہری کھائی میں تلاش کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق ایک ٹیکسی پونچھ سے کشمیر کی جانب جا رہی تھی، جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد اور ڈرائیور سوار تھے۔ یہ خاندان اپنے ایک بیمار رکن کے طبی معائنے کے لیے سرینگر جا رہا تھا۔پولیس کے مطابق پیر کی دوپہر کے وقت گاڑی مغل شاہراہ پر سفر کر رہی تھی کہ اچانک لاپتہ ہو گئی۔ شام تک جب اہل خانہ کا اپنے عزیزوں سے رابطہ نہ ہو سکا تو انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اطلاع دی، جس کے بعد منگل کی صبح تلاش مہم شروع کی گئی۔
سب ڈویژنل مجسٹریٹ سرنکوٹ فاروق خان نے بتایا کہ پولیس، سول انتظامیہ، فوج اور مقامی افراد کی مشترکہ ٹیموں نے صبح سویرے ہی سرچ آپریشن شروع کیا۔ کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد دوپہر کے وقت ایک ٹیم نے گہری کھائی میں گاڑی کا ملبہ دیکھا، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں نیچے اتریں اور گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر جائے حادثہ سے دو لاشیں برآمد کی گئیں، جبکہ مزید تلاش کے دوران باقی دو لاشیں بھی نکال لی گئیں۔ اس طرح حادثے میں سوار تمام چار افراد جاں بحق ہو گئے۔حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گاڑی میں کل چار افراد ہی سوار تھے اور کسی پانچویں شخص کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ جاں بحق افراد میں ڈرائیور شوکت حسین ساکن ہاڑی سرنکوٹ، عبدالمجید ولد منیر حسین اور باپ بیٹے اکبر حسین ولد غلام حیدر اور محمد بشیر شامل ہیں، جو سبھی پونچھ کے علاقہ منگناڑکے رہائشی تھے۔یہ بھی بتایا گیا کہ جاں بحق افراد میں ایک شخص بیمار تھا جسے علاج کے لیے سرینگر لے جایا جا رہا تھا، تاہم راستے میں پیش آنے والے اس حادثے نے پورے خاندان کو سوگوار کر دیا۔پولیس نے اس واقعے کے حوالے سے تھانہ سرنکوٹ میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی حالات کے دوران خاص طور پر پہاڑی سڑکوں پر سفر کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔