عظمیٰ نیوز سروس
کولکاتا // مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی پارٹی کی شکست کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی حکومت پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی پارٹی انتخابات نہیں ہاری بلکہ نتائج کو “لوٹا گیا” ہے۔ان کا کہنا تھاکہ “ہم ہارے نہیں ہیں، اس لیے میں استعفیٰ نہیں دوں گی۔ یہ جمہوریت نہیں، بلکہ نتائج پر قبضہ ہے۔” انتخابی نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال کی 294 میں سے 207 نشستیں جیت کر پہلی بار ریاست میں حکومت بنانے کا راستہ ہموار کر لیا ہے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس صرف 80 نشستوں تک محدود ہو گئی۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے بھی چونکا دینے والا ہے کہ ممتا بنرجی گزشتہ تین ادوار سے مسلسل اقتدار میں تھیں اور بنگال کو ان کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا۔انتخاب میں ممتا بنرجی کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب وہ اپنے روایتی حلقہ بھوانی پور سے بھی ہار گئیں۔ انہیں ان کے سابق قریبی ساتھی اور اب بی جے پی رہنما سویندو ادھیکاری نے شکست دی۔ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہاکہ “الیکشن کمیشن نے گندی چالیں چلیں۔ اصل حریف بی جے پی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن تھا۔”انہوں نے دعویٰ کیا کہ 100 سے زائد نشستیں “چوری” کی گئیں، مرکزی حکومت نے براہ راست مداخلت کی اور ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا گیا کہ اس بار تقریباً 90 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے گئے، جسے اپوزیشن نے مشکوک قرار دیا ہے۔ممتا بنرجی نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں ایک پولنگ اسٹیشن پر دھکا دیا گیا اور بدسلوکی کی گئی۔ ان کے مطابق “مجھے پیٹ اور کمر پر مارا گیا، سی سی ٹی وی بند تھا، مجھے کاؤنٹنگ سینٹر سے باہر نکال دیا گیا۔ ایک خاتون ہونے کے باوجود میرے ساتھ غلط سلوک کیا گیا۔”واضح شکست کے باوجود ممتا بنرجی نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ آئندہ حکمت عملی جلد طے کریں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پوسٹ پول تشدد کی تحقیقات کے لیے 10 رکنی کمیٹی بنائی جائے گی اور پارٹی متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی۔ممتا بنرجی نے بتایا کہ انہیں اپوزیشن اتحاد “انڈیا بلاک” کے رہنماؤں جیسے سونیا گاندھی، راہل گاندھی، اروند کیجریوال، ادھو ٹھاکرے، اکھلیش یادو اور دیگر کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں اور حمایت کا یقین دلایا گیا۔