اشتیاق ملک
ڈوڈہ //8ماہ کی جیل سے رہائی پانے کے بعد ممبر اسمبلی ڈوڈہ معراج ملک کا لوگوں نے اپنے حلقہ انتخاب میں پہنچنے پر شاندار استقبال کیا۔ بٹوت سے ڈوڈہ تک جگہ جگہ عوام کا جم غفیر موجود دیکھا گیا اور ڈوڈہ قصبہ میں رکاوٹوں کے باوجود لوگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ضلع انتظامیہ نے احتیاطی طور پر کچھ مقامات پر دفعہ 163 بی این ایس ایس نافذ کر کے سپورٹس سٹیڈیم کو تالا بند کیا تھا لیکن لوگوں کی بھاری بھیڑ دیکھ کر سٹیڈیم کو عوام کے لئے کھولا گیا ۔ بھاری عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ملک نے کہا کہ ان کی سیاست کا رخ انتقام کی طرف نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کی طرف ہے۔ انہوں نے کہا”جو بیت گیا وہ ایک لمحہ تھا، اب ہمیں آنے والے کل اور ایک بہتر مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے،ہم یہاں کسی سے لڑنے جھگڑنے نہیں بلکہ کام کرنے آئے ہیں” ۔
معراج ملک نے جہاں انتظامیہ سے تعاون کی اپیل کی، وہاں متنبہ بھی کیا کہ عوامی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کو مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے “اگر ہمیں نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی تو ہم اونچا رہیں گے، تم ہمیں روکو گے تو ہم تمہیں ٹھوکیں گے(سیاسی و قانونی جواب دیں گے)۔”ممبر اسمبلی نے عمر عبداللہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انتخابی وعدے اب تک وفا نہیں ہوئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 200 یونٹ مفت بجلی کا وعدہ ابھی تک پورا کیوں نہیں کیا گیا؟۔ ملک نے کہا کہ بہتر ہسپتال اور سکول بنانا میری اولین ترجیح اور بنیادی کام ہے اور میں ہر اس شخص کے ساتھ کھڑا ہوں جس کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دھرم کی سیاست کی ضرورت نہیں، یہ ملک ہمارا ہے اور ہم امن و بھائی چارے کے ساتھ خوشحال جموں و کشمیر بنانا چاہتے ہیں۔ ایم ایل اے نے الزام لگایا کہ وادی کشمیر ایک “خراب حالت” میں ہے جہاں آوازوں کو “منظم طریقے سے خاموش کیا جا رہا ہے۔” ملک نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں صرف “ایک طبقہ، ایک علاقہ، ایک حلقہ” پر توجہ دی جاتی ہے، جب کہ باقی علاقوں میں اختلاف رائے کو کچلا جا رہا ہے۔ملک نے کہا، “ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ آوازوں کو خاموش کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ہوا ان پہاڑوں سے گزرے؟ ” ۔ ریلی کے اختتام پر انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ڈوڈہ کے بہتر مستقبل کے لیے جی جان سے کام کریں گے۔