بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہ کروائی جا سکی، عوام میں شدید تشویش، اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ
جاوید اقبال
مینڈھر // سب ڈویژن مینڈھر کے سرحدی علاقوں میں عوام کے تحفظ کے لیے تعمیر کیے گئے بنکروں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ناقص تعمیرات کے انکشاف کے بعد مقامی آبادی میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ علاقہ مکینوں نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے بڑے پیمانے پر شفاف انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق حکومت نے سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کو گولہ باری اور فائرنگ کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے لاکھوں روپے کی لاگت سے بنکر تعمیر کروائے تھے۔ تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس سامنے آئی ہے، جہاں زیادہ تر بنکر ناقص تعمیرات کے باعث ناکارہ ہو چکے ہیں اور صرف تقریباً 20 فیصد بنکر ہی کسی حد تک قابلِ استعمال ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بنکروں کی حالت نہایت خستہ ہے اور کئی بنکروں کے اندر مسلسل پانی جمع رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ہنگامی حالات میں کسی کام کے نہیں رہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اچانک گولہ باری کی صورتحال پیدا ہو جائے تو عوام کے پاس محفوظ پناہ لینے کے لیے کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں ہوگا، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
مقامی افراد نے بتایا کہ گزشتہ سال ہونے والی گولہ باری کے دوران یہ بنکر عوام کے کسی کام نہ آ سکے اور لوگ مجبوری کے تحت اپنے گھروں کے اندر فرش پر پناہ لینے پر مجبور رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان بنکروں کی تعمیر معیاری انداز میں کی گئی ہوتی تو قیمتی جانوں کو خطرے سے بچایا جا سکتا تھا۔عوام نے متعلقہ محکمہ کے افسران پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بنکروں کی تعمیر میں غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کے کروڑوں روپے ضائع ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سنگین لاپرواہی کی وجہ سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے بلکہ ان کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔مقامی باشندوں نے اس معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ تعمیراتی کام میں کہاں کوتاہی برتی گئی اور کن افراد کی غفلت اس کی ذمہ دار ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔عوام نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے کر بنکروں کی مکمل جانچ کرائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ناقص بنکروں کی فوری مرمت یا ازسرِ نو تعمیر کو یقینی بنایا جائے تاکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد پہلے ہی مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں حفاظتی بنکروں کا ناقص ہونا ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے اور ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔مجموعی طور پر یہ معاملہ نہ صرف مالی بے ضابطگیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑا ایک اہم مسئلہ بھی ہے، جس پر فوری اور سنجیدہ کارروائی کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کو امید ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری اقدامات اٹھائے گی اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔