پرویز احمد
سرینگر //حرکت قلب بند ہونے کے فوری ردعمل، جس کی بنا پر کسی شخص کی جان بچائی جاسکتی ہے،CPR تربیتی اقدامات نے حکومتی اور پارلیمانی میٹنگوں کے اندر نمایاں توجہ حاصل کی ہے، جو کہ عوامی مقامات پر بڑھتے ہوئے دل کے دورے سے نمٹنے کی ضرورت کی وجہ سے ہے۔سکولوں میں سی پی آر کی تربیت کو لازمی بنانے کے لیے 2022 میں لوک سبھا میں ایک پرائیویٹ ممبر کا بل پیش کیا گیا۔ نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز ان میڈیکل سائنسز (NBEMS) نے 2023 کے آخر میں عوام کے لیے تربیتی سیشنز کے ساتھ ملک گیر CPR آگاہی مہم چلائی۔ پارلیمنٹ کے سیکورٹی گروپوں کے لیے خصوصی سیشن منعقد کیے گئے ہیں تاکہ ان کی ہنگامی ردعمل کی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے۔اس سال نائب صدر جمہوریہ نے ایک بار پھر راجیہ سبھا میں اس اہم مسلے کی جان حکومت کی توجہ دلائی۔راجیہ سبھا میں بتایا گیا کہ یورپی ممالک میں ہر ایک کمیونٹی سینٹر میں کم سے کم 5لوگوں کو تربیت دی جاتی ہے جو دل کا دورہ پڑنے کے موقعہ پر فوری ردعمل کا مظاہرہ کرکے متاثرہ شخص کو فوری امداد پہنچا سکتا ہے اور اس طرح جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ اس طریقہ کار کوCPR کارڈیو پلمونیری رسسائٹی یشن(Cardiopulmary resuscitation) کہتے ہیں۔جموں و کشمیر سمیت پورے ملک میں اس طریقہ کار سے کوئی واقف نہیں ہے لیکن سینے میں درد پیدا ہونے کے وقت سینے کو زور زور سے دبانے کا عمل کیا جاتا رہا ہے۔ سی پی آر ہنگامی حالت میں مریض کو ہوش میں لانے کیلئے چھاتی دبانے اور منہ سے منہ چھوڑ کر سانس بحال کرنے کے عمل کو کہتے ہیں۔اگر یہ عمل اچھی طرح کیا جائے تو دل کادورہ پڑنے سے متاثر مریضوں میں دوران خون اور سانس کو بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔دوڑنا، دم گھٹنا،بجلی کا جھٹکا لگنا،الرجی کے ردعمل میں جان کا خطرہ اور دل کا دورہ پڑنے کے وقت مریضوں کو سی پی آر دیا جاتا ہے۔ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے ہونے والی ہر 10اموات میں سے 7کو بچایا جاسکتا ہے ، اگر برقت اور صحیح طریقے سے سی پی آر کا طریقہ اختیار کیا جائے۔جموں و کشمیر میں ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حرکت قلب بند ہونے کے شکار لوگوں میں سے صرف 6فیصد کو ہی بروقت سی پی آر ملتا ہے اور ایسا لوگوں میں جانکاری اور تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔جموں و کشمیر میں مختلف رضاکارتنظیموں ، میڈیکل کالجوں اور طبی اداروں کے ذریعے لوگوں کو سی پی آر کی تریت جاتی ہے۔ ان میں انڈین ریڈ کراس سوسائٹی، جی ایم سی جموں،کشمیر لائف سپورٹ اور اس کے علاوہ سرینگر میں مختلف نجی اداروں کی جانب سے بھی سی پی آر میں تربیت کورس کرایا جاتا ہے جہاں طالب علموں کو تربیت کے علاوہ منظورشدہ اسناد سے بھی نوازا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر سرکار نے اسمبلی میں اس بات کا بھی اعلان کیا تھا کہ وہ ہر علاقے میں 10لوگوں کو سی پی آر دینے کی تربیت دینے کے منصوبہ پر غور کررہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ہر جگہ سی آر پی دینے کیلئے لوگ اہل ہوں۔
سی پی آر دینے کا طریقہ
سی پی آر لوگوں کی جان بچانے کا ایک بہترین طریقہ کار ہے اور اگر اس کو صحیح طریقے سے کیا جائے تو دل کا دورپ پڑنے والے افراد کی جان بچانے کا ایک بہترین عمل ہوسکتا ہے۔سی پی آر کو اہم 6نقات میں سمجھا اور سیکھا جاسکتا ہے ۔مریض کو سیدھا اور سخت جگہ پر لیٹائیں۔اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی کو مریض کے سینے کے درمیان(دررمیانی ہڈی کے نیچے) رکھیں اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو اس پر رکھ کر انگلیوں کو آپس میں پھسالیں۔چیسٹ کمریشن(چھاتی کو دبانا): ہاتھ کو سینے پر ررکھ کر5سے 6سینٹی میٹر یا تقریبا ً2انچ دبائیں۔سینے کو تیزی سے 100سے 120فی منٹ کی رفتار سے دبائیں۔ اگر آپ تربیت یافتہ ہیں تو 30بار دبائیں اور اگر آپ تربیت یافتہ نہیں ہے تو مسلسل سینے کو دبائیں۔ یہ عمل تب تک جاری رکھیں جب تک مریض سانس لینا شروع نہ کریں یا طبی عملہ وہاں تک نہ پہنیں۔