محتشم احتشام
پونچھ//حکومت کی جانب سے’200 یونٹ مفت بجلی‘ فراہم کرنے کے اعلان نے عوام میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کی تھی، لیکن زمینی سطح پر اس اسکیم کے ثمرات ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ تحصیل پونچھ کے دور افتادہ گاؤں کنوئیاں اپر میں ایک 80 سالہ بزرگ نے کہا حکومتی دعوؤں اور عملی صورتحال کے درمیان واضح فرق ہے۔ مذکورہ بزرگ، جو محدود وسائل اور کمزور صحت کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، بجلی کے بڑھتے بلوں سے شدید پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے مفت بجلی کا وعدہ ضرور کیا، مگر انہیں اس اسکیم کا کوئی فائدہ نہیں ملا۔
انہوں نے متعلقہ محکمہ سے کئی بار رجوع کیا، لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوئی۔گاؤں کے دیگر مکینوںنے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کنویاں اپر جیسے دور دراز علاقوں میں اکثر سرکاری اسکیموں کا نفاذ سست روی کا شکار رہتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہر مستحق فرد تک سہولت بروقت پہنچے۔سماجی کارکنوں نے اس معاملے پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بزرگ شہریوں کی مدد اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کنویاں اپر کا دورہ کرکے زمینی حقائق کا جائزہ لے اور متاثرہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کرے۔یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری اسکیموں کی مؤثر عملداری کے لیے نچلی سطح پر نگرانی اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور وعدے حقیقت کا روپ دھار سکیں۔