بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر کو تازہ زلزلہ ڈیزائن معیار کے تحت ملک کے سب سے زیادہ خطرناک زلزلاتی زمرے میں شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں خطرات کے اندازے اور حفاظتی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ معیار IS 1893(Part 1) 2025کے تحت پورے خطے کو ہائی رسک سیسمک زون میں رکھا گیا ہے۔ اس نئی درجہ بندی کے بعد جموں و کشمیر کے تمام اضلاع کو یکساں طور پر حساس قرار دیا گیا ہے اور اندرونی سطح پر کسی الگ زمرہ بندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔نئی صورتحال کے پیش نظر موجودہ اور زیر تعمیر ڈھانچوں، بالخصوص سکولوں، ہسپتالوں، پلوں اور سرنگوں کا لازمی ڈھانچہ جاتی آڈٹ شروع کیا گیا ہے۔ یہ آڈٹ ڈیزائن انسپکشن اینڈ کوالٹی کنٹرول ونگ کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں تاکہ تعمیرات کو زلزلہ سے محفوظ بنانے کے معیارات کے مطابق جانچا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025کے سیلاب کے بعد 11,600 سے زائد سکولی عمارتوں کا حفاظتی جائزہ لیا جا چکا ہے، جبکہ کمزور ڈھانچوں کی نشاندہی کے بعد انہیں مضبوط بنانے کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ تعمیرات عامہ کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔حکام نے تسلیم کیا ہے کہ زلزلہ سے نمٹنے کی تیاری ابھی مکمل نہیں، خاص طور پر ابتدائی وارننگ سسٹم کی عدم موجودگی ایک اہم چیلنج ہے۔ اگرچہ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی زلزلاتی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے، تاہم ہمالیائی خطے کے لیے مؤثر ابتدائی وارننگ نظام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ریسکیو اور ایمرجنسی ردعمل کے لیے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، سٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، پولیس، فائر سروسز اور سیول ڈیفنس پر مشتمل ایک مربوط نظام فعال ہے، جبکہ بڑے حادثات کی صورت میں فوج اور مرکزی فورسز کی مدد بھی حاصل کی جاتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آپدا متر اسکیم کے تحت 13 اضلاع میں 2,100 سے زائد رضاکاروں کو تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ 2025 کے دوران 10,000 سے زیادہ افراد کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔حکام کے مطابق ہنگامی حالات میں اسکولوں، پنچایت گھروں اور کمیونٹی ہالوں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ عوامی بیداری کے لیے تعلیمی اداروں میں باقاعدہ مشقیں بھی کرائی جا رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطرے کی سطح میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ایک جامع اور طویل مدتی زلزلہ خطرہ کم کرنے کی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو خطے میں خطرات اور کمزوریوں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔یہ پیش رفت جموں و کشمیر کو ملک کے سب سے زیادہ زلزلہ حساس علاقوں میں شامل کرتی ہے، جبکہ حکام انفراسٹرکچر اور حفاظتی نظام کو نئے خطراتی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدامات تیز کر رہے ہیں۔