نیشنل گرین ٹریبونل کی سنگین وارننگ، جھیلوں کا سکڑنا بدترین ماحولیاتی خلاف ورزی قرار
بلال فرقانی
سرینگر//کشمیر میں آبی ذخائر کے پانی کے معیار سے متعلق تازہ سرکاری اعداد و شمار نے ماہرین اور حکام دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بیشتر مقامات بنیادی ’کلاس بی‘ معیار پر پورا اترنے میں ناکام پائے گئے ہیں، جو نہ صرف ماحولیاتی بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے۔جموں و کشمیر پولیوشن کنٹرول کمیٹی اور متعلقہ محکموں کی نگرانی کے دوران مالی سال 2025-26 کے اپریل تا دسمبر عرصے میں 2,069 پانی کے نمونے جمع کیے گئے، جن میں ڈِزولڈ آکسیجن، بایو کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ پی ایچ، فیکل کولائی فارم اور ٹوٹل کولائی فارم جیسے اہم اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق ضلع بانڈی پورہ میں 28 میں سے صرف 2 آبی ذخائر ہی مقررہ معیار پر پورا اتر سکے، جبکہ باقی ناکام رہے۔ اسی طرح کپواڑہ، گاندربل اور سرینگر سمیت کئی اضلاع میں بھی صورتحال تشویشناک رہی، جہاں بیشتر پانی کے ذرائع آلودگی کے معیار پر پورا نہیں اترے۔دریائے جہلم کے 14 نگرانی مقامات میں سے 11 پر اگرچہ کچھ بنیادی پیمانے پورے پائے گئے، تاہم فیکل کولائی فارم کی بلند سطح کے باعث 13 مقامات ناکام قرار دیے گئے۔
اس کے برعکس نالہ لدر اور نالہ سندھ میں معیار بہتر پایا گیا۔دارالحکومت سرینگر کی اہم جھیلوں، خصوصاً جھیل ڈل اور نگین جھیل میں بایو کیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ کے معیار کی مکمل ناکامی ریکارڈ کی گئی، جو بڑھتی ہوئی سیوریج آلودگی اور ناقص فضلہ نظم و نسق کی عکاسی کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جھیلوں میں کولائی فارم کی بلند سطح اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی فضلہ اور آلودہ پانی کا بے قابو اخراج جاری ہے، جس سے آبی حیات اور انسانی صحت دونوں کو خطرات لاحق ہیں۔اسی تناظر میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی حالیہ مداخلت بھی اہم قرار دی جا رہی ہے، جس نے جموں و کشمیر میں جھیلوں کے سکڑنے اور غائب ہونے پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا ’’یہ صورتحال ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی اور آبی نظام میں سنگین بگاڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جو خطے کے ہائیڈرولوجیکل توازن اور ماحولیاتی استحکام کو متاثر کر رہی ہے۔‘‘ٹریبونل نے یہ بھی واضح کیا کہ جھیلیں قدرتی بفر کا کردار ادا کرتی ہیں اور ان کا ختم ہونا سیلابی خطرات، زیرزمین پانی کی کمی اور موسمیاتی عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے۔سرکاری سطح پر اگرچہ جنگلاتی رقبے میں اضافہ، شجرکاری مہمات اور فضائی معیار میں بہتری جیسے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق پانی کے معیار میں بگاڑ اس بات کی علامت ہے کہ شہری توسیع، تجاوزات، جنگلات کی کٹائی اور ناقص سیوریج نظام جیسے مسائل پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔ماہر ماحولیات ڈاکٹر شبیر مجید کے مطابق’’اگر فوری اصلاحی اقدامات،خصوصاً سیوریج ٹریٹمنٹ، تجاوزات کے خاتمے اور مؤثر نگرانی نہ کیے گئے تو کشمیر میں آبی بحران ایک بڑے صحت عامہ کے مسئلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔‘‘ان کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک وارننگ ہے، اور بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وادی کے آبی وسائل اور ماحولیاتی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔