پرویز احمد
سرینگر // جموں و کشمیر میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTIs)، جن میں مثانے کا انفیکشن (Cystitis) بھی شامل ہے، کے بارے میں مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی شرح خاص طور پر خواتین میں کافی زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ ان انفیکشنز میں استعمال ہونے والی ادویات کے خلاف مزاحمت (antibiotic resistance) ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، جو علاج کو مشکل بناتا جا رہا ہے۔علاقائی مطالعات کے مطابق، پیشاب کے نمونوں کی بڑی تعداد میں بیکٹیریا کی واضح افزائش دیکھی گئی ہے، جو انفیکشن کے عام ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔یہ انفیکشن مردوں کے مقابلے میں خواتین میں کہیں زیادہ عام ہیں۔ خواتین کی شرح تقریباً 84.1% کیسز پر مشتمل ہیں۔جن میں21 سے 30 سال کی عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اس کے بعد 31-40 اور 41-50 سال کے عمر کے آتے ہیں۔مثانے کی سوزش یا انفکیشن عام طور پر پیشاب کی نالی کے انفکیشن کی ایک قسم ہے جو E.coliنامی بکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کی بڑی علامتوں میں بار بار پیشاب آنا، جلن اور پیٹ کے نچلے حصے میں درد ہونا شامل ہے۔ اس کی بڑی وجہ پیشاب کی نالی کے ذریعے بکٹیریا کا مثانے میں چلے جانا ہے۔ بیماری پیدا کرنے والے سب سے عام جراثیم ایشیریشیا کولی (Escherichia coli) ہے، جو تقریباً 53% سے زائد کیسز کا سبب بنتا ہے۔دیگر اہم جراثیم میں کلیبسیلا نمونیا ،سیوڈوموناس ایروجینوسا کلنیکل علامات میں شامل ہیں۔پیشاب کے دوران جلن (Burning micturition)پیشاب کرنے میں درد یا دشواری (Dysuria)، اینٹی بائیوٹک کئی جراثیم میں ادویات کے خلاف کئی جراثیم میں (Multidrug resistance) پائی گئی ہے۔ماہر امراض ڈاکٹر شبیر احمد کا کہنا ہے کہ خواتین میں مثانے کی نالی چھوٹی ہوتی ہے اور اس وجہ سے خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں جبکہ مردوں میں مثانے کی نالی بڑی ہوتی ہے اور انفکیشن بھی کافی دیر بعد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر مردوں میں مثانے کی سوزش 40سال کے بعد لیکن خواتین میں 20سے 30سال کی عمر کے درمیان ہوتی ہے۔ ڈاکٹرشبیر نے بتایا کہ پیشاب کے دوران جلن، خون آنا ، بخار اور دیگر علامات گردوں میں انفکیشن کی بھی علامتیں ہوتی ہیں اور اس لئے متاثرہ مریضوں کو ڈاکٹروں کی صلاح لینا ضروری ہے۔