بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں محصولات بڑھانے کی نمایاں گنجائش موجود ہونے کے باوجود کمزور نظام، ناقص نفاذ اور کم وصولیوں کے باعث مالی حالت پر دباؤ برقرار ہے۔ سی اے جی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مؤثر اقدامات کے ذریعے نہ صرف ریونیو میں اضافہ ممکن ہے بلکہ قرضوں پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سٹیٹ جی ایس ٹی، سٹامپ ڈیوٹی اور ایکسائز جیسے اہم ٹیکس شعبوں میں کمزور تشخیص، کم قدر لگانے (انڈر ویلیوایشن) اور نفاذ کے محدود نظام کے باعث محصولات کی شرح نمو متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ نان ٹیکس ریونیو میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، جہاں کم یوزر چارجز، ناقص لاگت کی وصولی اور سرکاری اثاثوں سے کم منافع مالی گنجائش کو محدود کر رہے ہیں۔سی اے جی رپورٹ کے مطابق 31 مارچ 2025 تک جموں کشمیرمیں کل بقایا محصولات 4,067 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جن میں سے 827.58 کروڑ روپے ایسے ہیں جو 5 سال سے زائد عرصے سے واجب الادا ہیں۔ ان بقایا جات میں سب سے بڑا حصہ جی ایس ٹی کا2,140.70 کروڑ روپے اور سیلز ٹیکس/وی اے ٹی کا1,865.05 کروڑ روپے کا ہے، جبکہ ٹول ٹیکس میں28.24 کروڑ روپے، سٹیٹ ایکسائز میں32.71 کروڑ روپے،تفریحی ٹیکس اور موٹر اسپرٹ ٹیکس کی مد میں بھی رقوم طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ محصولات کی وصولی کے ساتھ ساتھ تخمینہ کے معاملات میں بھی نمایاں تاخیر ہو رہی ہے۔ سال 2024-25کے دوران سیلز ٹیکس/وی اے ٹی سے متعلق 8,324 کیس ابتدائی طور پر زیر التوا تھے، جبکہ سال کے دوران مزید 20,357 کیس تخمینہ کیلئے آئے، جس سے مجموعی تعداد 28,681 تک پہنچ گئی۔ ان میں سے 20,703 کیس نمٹائے گئے، تاہم 7,978 کیس سال کے اختتام تک زیر التوا رہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نظام مکمل طور پر مؤثر نہیں ہے۔ مجموعی طور پر 72.18 فیصد کیسوں کا تصفیہ کیا گیا۔ٹیکس چوری کے معاملات میں بھی کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کے مطابق 2024-25کے دوران 831 نئے کیس سامنے آئے، جبکہ کل 1,050 کیس زیر غور رہے۔ ان میں سے 737 کیس میں تخمینہ یا تحقیقات مکمل کر کے 273.96 کروڑ روپے کے اضافی ٹیکس مطالبات عائد کیے گئے، تاہم 313 کیس اب بھی زیر التوا ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر ٹیکس ریونیو میں کم یوزر چارجز اور سرکاری اثاثوں سے ناکافی آمدنی ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس کے باعث حکومتی وسائل پوری طرح استعمال نہیں ہو پا رہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان شعبوں میں اصلاحات کی جائیں تو مالی گنجائش میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔سی اے جی نے زور دیا ہے کہ بقایا جات کی بروقت وصولی، ٹیکس تخمینہ کے عمل کو تیز کرنے، اور نفاذی نظام کو مضبوط بنانے کے ذریعے نہ صرف ریونیو میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ مالی نظم و ضبط کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو مالی خسارہ اور قرضوں پر انحصار مزید بڑھ سکتا ہے۔