عظمیٰ نیوز سروس
راجوری// ضلع راجوری کے علاقہ دھیری ریلیوٹ میں پینے کے صاف پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جہاں واٹر سپلائی سکیم کا مرکزی پمپ خراب ہونے کے باعث درجنوں گھروں میں پانی کی فراہمی گزشتہ کئی دنوں سے مکمل طور پر معطل ہے۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور لوگ بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی کے لیے دربدر ہو گئے ہیں۔مکینوں کے مطابق پانی کی عدم دستیابی کے باعث خواتین، بچے اور بزرگ دور دراز مقامات سے پانی لانے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف ان کی جسمانی مشقت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ صحت کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ محض ایک تکنیکی خرابی تک محدود نہیں بلکہ محکمہ جل شکتی (پی ایچ ای) کی مسلسل غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔علاقہ مکینوں نے محکمہ کے افسران کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ واٹر سپلائی سکیم کی مشینری کی بروقت دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث پمپ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مرمت اور مینٹیننس کا نظام موجود ہوتا تو اس بحران سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ کی جانب سے نہ تو مستقل بنیادوں پر معائنہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل انتظامات موجود ہیں۔
مزید برآں، جل جیون مشن کے تحت علاقے میں پائپ لائن بچھانے کا کام بھی مکمل طور پر انجام نہیں دیا گیا۔ کئی مقامات پر آج بھی پرانی اور بوسیدہ پائپوں کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری ہے، جو اکثر لیک ہونے کے باعث پانی ضائع کر دیتی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سپلائی بحال ہوتی ہے تو بوسیدہ پائپ لائن سے پانی خارج ہو جاتا ہے، جس کے باعث سپلائی ہونے کے باوجود بھی عوام کو فائدہ نہیں پہنچتا۔اہلِ علاقہ نے الزام عائد کیا کہ جل جیون مشن کے تحت کام کرنے والے ٹھیکیداروں نے غیر معیاری ساز و سامان استعمال کیاجس کی وجہ سے آج عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک اسکیمیں مکمل طور پر فعال نہ ہو جائیں، متعلقہ ٹھیکیداروں کی ادائیگیاں روکی جائیں اور استعمال شدہ مواد کے معیار کا غیر جانبدارانہ معائنہ کیا جائے۔مقامی باشندوں نے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کئی بار محکمہ کے اعلیٰ حکام سے رجوع کیا گیا، مگر ہر بار صرف زبانی یقین دہانیاں دی گئیں اور عملی طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ اس صورتحال نے عوام میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔اہلِ علاقہ نے جموں و کشمیر حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے، خراب پمپ کی مرمت اور پائپ لائن کی درستگی کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنائے، اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو وہ سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ محکمہ اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔