محمد تسکین
بانہال// رام بن ضلع کا ایک نوجوان جو جموں سرینگر قومی شاہراہ پر مبینہ طور پر ہجومی تشددسے بچنے کے لیے ندی میں کودنے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا، مسلسل تیسرے دن بھی نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کیساتھ بچائو کارروائیاں جاری رہیں۔یہ واقعہ اتوار کی دوپہر رام بن ضلع کے مکرکوٹ میں چار لین ٹنل نمبر 5 کے قریب پیش آیا۔ لاپتہ نوجوان کی شناخت تنویر احمد چوپان کے نام سے ہوئی ہے جو منڈکھل پوگل کا رہائشی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق چوپان ایک گائے اور دو بچھڑوں کے ساتھ ایک گاڑی میں جموں سے اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ ڈگڈول کے قریب دو گاڑیوں میں مبینہ طور پر بدمعاشوں( گائو رکھشک) نے اس کا پیچھا کیا۔ مبینہ طور پر حملہ آوروں نے اسے مکرکوٹ کے قریب روکا اور اس پر حملہ کیا۔ خود کو بچانے کی کوشش میں اس نے نالہ بشلری میں چھلانگ لگا دی اور وہ تب سے لاپتہ ہے۔پیر کے روز، علاقے میں مظاہرے پھوٹ پڑے ، مقامی لوگوں نے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تقریباً چار گھنٹے تک جموں سرینگر قومی شاہراہ کو بند کر دیا۔ بعد میں ڈی سی رام بن محمد الیاس خان اور ایس ایس پی رام بن ارون گپتا کی مداخلت کے بعد ناکہ بندی ہٹا دی گئی، جنہوں نے اس معاملے میں سخت کارروائی کا یقین دلایا تھا۔
پولیس نے پہلے ہی واقعہ کے سلسلے میں مقدمہ درج کر کے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد کی شناخت سرجیت سنگھ، سندیپ سنگھ، ڈگ وجئے سنگھ اور کیول سنگھ کے طور پر کی گئی ہے، یہ سبھی رام بن شہر اور قریبی سیری علاقوں کے رہنے والے ہیں۔حکام نے واقعہ کے آس پاس کے حالات کی جانچ کے لیے ایس ڈی پی او بانہال سریندر سنگھ کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)بھی تشکیل دی ہے۔دریں اثنا لاپتہ نوجوانوں کی تلاش کے لیے منگل کو بھی سرچ آپریشن جاری رہا۔ این ڈی آر ایف، پولیس، ہمالیہ کیو آر ٹی رامسو، بانہال رضاکار، اور انڈین ریڈ کراس سوسائٹی بانہال کی ٹیمیں آپریشن میں مصروف رہیں۔ایس ایچ او رامسو فرید خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متعدد ریسکیو ٹیمیں مسلسل تیسرے روز بھی تلاش کا کام کر رہی ہیں تاہم ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔دریں اثنا، لاپتہ نوجوان کے والد اور جموں و کشمیر پولیس میں حاضر سروس ایس پی او عبدالسلام چوپان نے اس واقعہ پر گہرے غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے اور ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا، رام بن ضلع میں معمول کی انٹرنیٹ خدمات منگل کی دوپہر اس واقعے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر تقریباً 30 گھنٹے تک معطل رہنے کے بعد بحال کر دی گئیں۔