دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی کچھ بڑے معاہدوں پر دستخط کی توقع:امریکی سفیر
نئی دہلی/امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کیا تاکہ مغربی ایشیا کے بحران اور آبنائے ہرمز کو ’’کھلا اور محفوظ‘‘رکھنے کی ضرورت پر بات کی جا سکے، جبکہ امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے کہا کہ بھارت اور امریکہ جلد ہی کچھ’’بڑے معاہدوں‘‘ پر دستخط کرنے کی توقع رکھتے ہیں، جن میں توانائی کا شعبہ بھی شامل ہے۔دونوں رہنماؤں کی تقریباً 40 منٹ طویل گفتگو کے فوراً بعد مودی نے کہا کہ انہوں نے اور ٹرمپ نے دو طرفہ تعلقات میں ’’نمایاں پیش رفت‘‘ کا جائزہ لیا ہے اور دونوں فریق ’’جامع عالمی سٹریٹجک شراکت داری‘‘کو ہر شعبے میں مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
گفتگو کے بعد امریکی سفیر گور نے منتخب صحافیوں کو بتایا کہ کچھ ’’بڑے معاہدے‘‘، خصوصاً توانائی کے شعبے میں، آنے والے ’’چند دنوں اور ہفتوں‘‘میں طے ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔یہ فون کال ایسے وقت میں ہوئی جب عالمی سطح پر امریکہ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ممکنہ امریکی۔ایرانی مذاکرات کے دوسرے دور کی خبروں پر تشویش بڑھ رہی ہے، جبکہ ابتدائی مذاکرات اسلام آباد میں ناکام ہو چکے تھے۔یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس سال تیسری فون کال تھی اور حالیہ مغربی ایشیا مذاکرات کے بعد پہلی کال تھی۔ اس سے قبل وہ 2 فروری کو تجارتی معاہدے میں پیش رفت کے اعلان کے لیے اور 24 مارچ کو مغربی ایشیا کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے گفتگو کر چکے تھے۔
مودی نے سوشل میڈیا پر کہا’’مجھے اپنے دوست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فون موصول ہوا۔ ہم نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ہم جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو ہر شعبے میں مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ہم نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی بات کی اور آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا‘‘۔گور کے مطابق گفتگو کے اختتام پر ٹرمپ نے مودی سے کہا’’میں صرف آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم سب آپ سے محبت کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی توانائی سمیت کچھ بڑے معاہدے سامنے آئیں گے اور تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔گور نے کہا’’ہم آنے والے دنوں یا ہفتوں میں کچھ اہم اور دلچسپ اعلانات دیکھ سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی اور دیگر شعبوں میں‘‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض بھارتی سرکاری توانائی کمپنیاں امریکی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کا اعلان کر سکتی ہیں۔مغربی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے خطے کی مجموعی صورتحال سے مودی کو آگاہ کیا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے ایران پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک ملک بین الاقوامی آبی راستوں کو بند کر کے دنیا کو یرغمال بنا رہا ہے، جس سے تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ آبی راستہ جلد از جلد کھولا جائے کیونکہ اس سے پوری دنیا بشمول بھارت کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ اس معاملے میں مختلف ممالک کی شمولیت کے لیے تیار ہیں، لیکن یہ فیصلہ بھارت کی حکومت پر ہے کہ وہ کیا کردار ادا کرے۔انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اگلے ماہ بھارت کا دورہ کریں گے تاکہ وسیع تر مذاکرات کیے جا سکیں، اور دونوں ممالک ’’بڑے معاہدوں‘‘کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہم سمجھتا ہے اور کوآڈ (Quad) وزارتی اجلاس کے انعقاد کا بھی منتظر ہے۔