بلال فرقانی
سرینگر// کمپٹرولر ایند آڈیٹر جنرل نے جموں و کشمیر کے مالیاتی نظم و نسق پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔تازہ رپورٹ کے مطابق 167 ترقیاتی منصوبے برسوں سے زیر التوا ہیں، جس کے باعث سینکڑوں کروڑ روپے کا سرمایہ غیر مؤثر ہو کر رہ گیا ہے اور حکومت ان منصوبوں کے متوقع فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں کی مجموعی تخمینہ لاگت 591.75کروڑ روپے تھی، جن میں سے 278.56 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، تاہم تکمیل نہ ہونے کے باعث یہ سرمایہ عملاً منجمد ہے۔رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نامکمل منصوبوں میں فنڈس کا پھنس جانا نہ صرف سرمایہ جاتی اخراجات کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی بڑھاتا ہے۔
سی اے جی کے مطابق کئی منصوبے ایک دہائی سے زائد عرصے سے مکمل نہیں ہو سکے ہیں، جن میں 2008-9اور 2012-13میں شروع ہونے والے پروجیکٹ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں، خصوصاً 2018-19سے 2022-23کے دوران شروع کیے گئے متعدد منصوبے بھی تاحال نامکمل ہیں، جو عملدرآمد میں مسلسل رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔محکمہ جاتی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے اہم شعبے سب سے زیادہ متاثر ہے ۔محکمہ پی ایچ ای جموں میں 101، پی ایچ ای پیر پنجال میں 47 اور آبپاشی و فلڈ کنٹرول جموں میں 19 منصوبے نامکمل ہیں۔رپورٹ میں شفافیت کی کمی پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے، کیونکہ ایک کروڑ روپے سے زائد لاگت کے نامکمل منصوبوں کی معلومات صرف 2 محکموں کی جانب سے فراہم کی گئی۔ نامکمل مالیاتی ڈیٹا کی وجہ سے آڈٹ ادارہ 31 مارچ 2025 تک اخراجات، پیش رفت اور واجبات کی مکمل تصویر پیش کرنے سے قاصر رہا۔سی اے جی نے خبردار کیا ہے کہ نامکمل منصوبوں کے لیے مسلسل قرض لینے کا رجحان مالی دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے، جس سے ترقیاتی اخراجات کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر حکومت پر مجموعی طور پر 24,131.10 کروڑ روپے کی غیر ادا شدہ واجبات ہیں، جو جی ایس ڈی پی کے 9.19 فیصد اور 2024-25کے مالی خسارے کے 296.24 فیصد کے برابر ہیں۔ان واجبات میں گارنٹی ریڈمپشن فنڈ 309.91 کروڑ روپے، کنسولیڈیٹڈ سنکنگ فنڈ 112.97 کروڑ روپے، واجب الاداسود 45.32 کروڑ روپے، آف بجٹ قرضے 23,197.08 کروڑ روپے، نیشنل پنشن سسٹم میں حکومتی حصہ کی کمی 396.22 کروڑ روپے اور زیر التوا رقومات کی واپسی کیس 69.60 کروڑ روپے شامل ہیں۔سی اے جی نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نامکمل منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے، منصوبہ بندی اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کرے اور تمام واجبات کو شفاف طریقے سے ظاہر کرتے ہوئے ان کی بروقت ادائیگی کے لیے اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں مالی بحران سے بچا جا سکے۔