پرویز احمد
سرینگر /بالوں کا گرنا ایک عام تشویش ہے جس کی وجہ جینیات (اینڈروجینیٹک ایلوپیسی)، ہارمونل عدم توازن(تھائرائڈ، حمل، رجونورتی)، زیادہ تنائو کی سطح، اور غذائیت کی کمی(آئرن، زنک، پروٹین)جیسے عوامل ہیں۔ اگرچہ ایک دن میں 50-100 اسٹرینڈز معمول کی بات ہے، لیکن شیڈنگ میں اضافے کے لیے طرز زندگی کی عادات کو بدلنے کی اشدضرورت قرار ددی جارہی ہے۔ اینڈروجینیٹک ایلوپیسیا (پیٹرن گنجا پن) 80% مردوں اور 50% خواتین کو متاثر کرتا ہے۔بالوں کی دیکھ بھال کیلئے سخت کیمیائی لوشن یا شیمپو نقصان کا باعث بنتے ہیں۔خون پتلا کرنے والی ادویات اور کیموتھراپی سے بھی بال گرتے ہیں۔وادی میں 56فیصد لوگ بالوں کے گرنے سے پریشان ہیں۔ ان میں سے 18فیصد لوگ کافی تعداد میں بال کھو بیٹھتے ہیں۔ بالوں کے کھونے کا مطلب ہوتا ہے،سرکی جلد سے بالوں کا عارضی یا مکمل طور پر گرجاناہے۔ طبی زبان میں روزانہ 50سے 100بالوں کا جلد سے نکلنے کو بال گرنا کہتے ہیں۔
بال مختلف وجوہات کی وجہ سے گرتے ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں 56فیصد لوگوں کو بال گرنے کی مشکلات کا سامنا ہے۔ان میں سے 18فیصد لوگوں کوگرنیوالے بالوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ بال گرنے کے مختلف وجوہات ہوتے ہیں۔ذہنی تنائو حد سے بڑھ جاننے کی وجہ سے بیشتر نوجوانوں کے بال گرنے شروع ہوجاتے ہیں۔ بالوں کو کیمیاتی رنگوں سے رنگنے کی وجہ سے بھی بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ بالوں کی صحیح طریقے سے دیکھ بال نہ کرنے اور چند بیماریوں جیسی تھائرایڈ اور مدافعتی نظام کا بالوں کی جڑوں پر حملہ کرنے سے بھی بال گرنے لگتے ہیں۔ ماہر امراض جلد ڈاکٹر دانش اشرف نے بتایا کہ نوجوانوں میں بال جڑنے کی بڑی وجہ ذہنی تنائو ہے۔ انہوں نے کہا کہ مردوں میں اس کے علاوہ مختلف کیماتی رنگوں سے بال رنگنے کی وجہ سے بھی بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ڈاکٹر دانش نے بتایا کہ خواتین میں ذہنی تنائو کے علاوہ مختلف ہارمونوں اور وٹامن کی کمی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بال گرنے کی وجوہات کا پتہ لگانے کیلئے ماہر امراض جلد سے رابطہ کرنا لازمی ہے جو مریضوں کو بال گرنے کی وجوہات اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتا سکتا ہے۔