عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر // وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جب سے ایشیاء کے سب سے بڑے سرینگر ٹیولپ گارڈن کو اس سال سیاحوں کیلئے کھول دیا، تب سے یہاں سوا دو لاکھ سیانیوں کی آمد ہوئی ہے۔ یہ بات ڈائریکٹر فلوری کلچر متھورا معصوم نے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام دنوں میں سیاحوں کی آمد تقریباً روانہ 5ہزار کے لگ بھگ ہوتی ہے لیکن چھٹیوں کے ایان میں یہ تعداد 20ہزار سے زیادہ ہوجاتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس سال موسم انتہائی مہربان رہا اور بارشوں کیساتھ مطلع زیادہ تر ابر آلود رہا جس کی وجہ سے ٹیولپ زیادہ دنوں تک تازہ رہے۔انہوں نے کہا کہ بادام واری میں پچھلے سال 18000لوگوں نے یہاں کا دورہ کیا اور لطف اندوز ہوئے جو اس سال مارچ کے مہینے میں 43ہزار تک کی تعداد ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ بادام واری کے بارے میں منصوبی یہ ہے کہ اسے سال بھر کھلا رکھا جائے اور ایسے درخت لگائے جائیں جو سال بھر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔ انکا کہنا تھا کہ اس منصوبے پر کام ہورہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سال اس میں بڑی پیشرفت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بادام واری بنیادی طور پر بادام کے پھولوں کی وجہ سے مشہور ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو مختلف موسموں میں مختلف پھول ملیں اور ہر موسم میں ملیں۔