عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی قابو سے باہر ہے اور اس کے اثرات جموں و کشمیر تک بھی پہنچ سکتے ہیں، تاہم انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ اس وقت خطے میں ایندھن اور ضروری اشیاء کی کوئی کمی نہیں ہے۔اسمبلی کارروائی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئےوزیر اعلیٰ نے کہا کہ عالمی حالات نہ تو جموں و کشمیر کے کنٹرول میں ہیں اور نہ ہی ملک کے، اور اگر عالمی سطح پر کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے بھارت میں محسوس کیے جائیں گے، جو بالآخر جموں و کشمیر تک بھی پہنچیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال زمینی صورتحال مستحکم ہے۔ ضروری اشیاء اور ایندھن کی دستیابی برقرار ہے۔ اس وقت کسی قسم کی قلت نہیں ہے اور ہمارے پاس آئندہ 10 سے 15 دن کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملک میں سپلائی میں کمی واقع ہوتی ہے، خاص طور پر کسی عالمی کشیدگی کے باعث، تو اس کے اثرات جموں و کشمیر پر بھی مرتب ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ فوری طور پر گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔انہوں نے کہا، آئندہ چند ہفتوں تک فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
عالمی کشیدگی قابو سے باہر، جموں و کشمیر بھی متاثر ہو سکتا ہے: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ