جاوید اقبال
مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر میں محکمہ تعلیم کی موجودہ صورتحال دن بہ دن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، جہاں اساتذہ کی مسلسل ریٹائرمنٹ کے باوجود خالی آسامیوں کو پْر کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے نئی بھرتیوں کا عمل سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق علاقے کے متعدد مڈل اور پرائمری اسکول اس وقت شدید عملے کی کمی کا شکار ہیں۔ کئی اسکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک ہی استاد پورے ادارے کا نظام سنبھالنے پر مجبور ہے۔ ایک استاد کو بیک وقت مختلف جماعتوں کو پڑھانے، انتظامی امور انجام دینے اور دیگر ذمہ داریاں نبھانے کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے، جس کے باعث تدریسی معیار متاثر ہو رہا ہے اور طلبہ کو مناسب توجہ نہیں مل پا رہی۔
والدین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ تعلیم اور انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی بھرتیوں میں غیر ضروری تاخیر کے باعث بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے۔ ایک والدین نے بتایا کہ ان کے بچوں کو بنیادی مضامین کی بھی مکمل رہنمائی میسر نہیں، جس سے ان کی تعلیمی بنیاد کمزور ہو رہی ہے۔تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں اس کے منفی اثرات مزید گہرے ہوں گے اور طلبہ مسابقتی میدان میں پیچھے رہ جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کیلئے فوری طور پر اساتذہ کی کمی کو دور کرنا ناگزیر ہے۔مقامی لوگوں اور سماجی کارکنوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور خالی آسامیوں پر جلد از جلد بھرتیاں عمل میں لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لہٰذا اس شعبے میں لاپروائی ناقابل قبول ہے۔عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ حکام اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اقدامات کریں گے تاکہ مینڈھر کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ان کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔