عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //لوک سبھا نے بدھ کے روز ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے “ون نیشن، ون الیکشن” بل پر غور کرنے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید وقت دے دیا ہے۔ یہ تحریک جے پی سی کے چیئرمین پی پی چودھری کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں انہوں نے درخواست کی کہ کمیٹی کو اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے لیے 2026 کے مانسون سیشن کے آخری ہفتے کے پہلے دن تک مہلت دی جائے۔ایوان نے اس تجویز کو منظور کرتے ہوئے کمیٹی کو مزید وقت فراہم کر دیا۔ آئین (ایک سو انیسویں ترمیم) بل، 2024 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیمی) بل 2024، یہ دونوں بل دراصل “ون نیشن، ون الیکشن” اصلاحات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ملک بھر میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرنا ہے۔یہ بل 17 دسمبر 2024 کو لوک سبھا میں پیش کیے گئے تھے اور بعدازاں مزید جانچ کے لیے مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیے گئے۔ جے پی سی فی الحال ان بلوں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان کے آئینی اور انتظامی پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیا جا سکے۔
حال ہی میں پارلیمنٹ ہاؤس انیکسی میں ہونے والے اجلاس کے بعد پی پی چودھری نے کہا کہ “ون نیشن، ون الیکشن” کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ قومی مفاد کا معاملہ ہے، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوگی اور انتخابی عمل زیادہ مؤثر بنے گا۔اجلاس کے دوران غلام نبی آزاد نے بھی کمیٹی کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیے اور ارکان کے سوالات کے جوابات دیے، جس سے اس اہم اصلاحی اقدام پر غور و خوض کو مزید تقویت ملی۔