عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// کشمیر کی دنیا بھر میں مشہور ہاؤس بوٹس جو کبھی ڈل جھیل، نگین جھیل اور دریائے دریائے جہلم کی پہچان سمجھی جاتی تھیں ، تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہیں، جس نے سیاحتی صنعت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ ان کی تعداد تقریباً 2 ہزار سے گھٹ کر صرف 750 رہ گئی ہے، جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وادی کی ایک نمایاں علامت آئندہ ایک دہائی میں مکمل طور پر ناپید ہو سکتی ہے۔ جھیل ڈل میں کئی ہاؤس بوٹوں کے مالک نورمحمد نے کہا کہ ہاؤس بوٹس کی تیزی سے کم ہوتی تعداد انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا،’’ہم گزشتہ تین دہائیوں سے متواترحکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہاؤس بوٹس کو ورثہ قرار دے کر ان کے تحفظ کے لیے باقاعدہ پالیسی مرتب کی جائے، مگر اب تک کچھ نہیں ہوا۔ دیودار کی لکڑی آسانی سے دستیاب نہیں اور نئی نسل اس پیشے کو اپنانے کے لیے تیار نہیں۔ اگر حکومت نے ہماری مانگوں پر توجہ نہ دی تو اگلے دس برسوں میں کشمیر میں ایک بھی ہاؤس بوٹ باقی نہیں رہے گا۔‘‘ایک اورہاوس بوٹ مالک غلام محمدنے کہا کہ حالات اب انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ ‘‘معمولی مرمت کے لیے بھی مہینوں تک اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔
نظام اس قدر سخت ہو چکا ہے کہ بہت سے مالکان نے یہ پیشہ ہی چھوڑ دیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ پانچ سے دس سال میں کشمیر سے ہاؤس بوٹس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘انہوں نے کہا ،’’ سیاحت کو لگنے والے مسلسل دھچکوں نے اس پیشے سے وابستہ خاندانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ‘‘بہت سے مالکان بے روزگار ہو چکے ہیں، آمدنی ختم ہو گئی ہے اور لوگ اپنے بچوں کی سکول فیس ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ نئی نسل اس کام کو اپنانے سے انکار کر رہی ہے کیونکہ انہیں اس میں کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔‘‘ڈل جھیل پر تیسرے نسل کے ہاؤس بوٹ مالک غلام نبی نے کہا کہ کاروبار اس سے پہلے کبھی اتنا مایوس کن نہیں رہا۔ ‘‘ایک وقت تھا جب غیر ملکی سیاح مہینوں پہلے بکنگ کرواتے تھے، آج کئی دن گزر جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ہم جذباتی اور مالی طور پر ڈوب رہے ہیں‘‘نگین جھیل کے ایک اورہاوس بوٹ مالک فاروق احمد نے کہا کہ ہاؤس بوٹ کی دیکھ بھال ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ ‘‘لکڑی، مزدوری اور دیگر اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، مگر سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے۔ آمدنی صفر ہے۔ ایسے میں ہم کیسے زندہ رہیں اور اس ورثے کو کیسے بچائیں؟‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا۔ٹریول بزنس سے وابستہ نورمحمد نے کہا کہ ہاؤس بوٹس کا زوال کشمیر کی سیاحتی شناخت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ہاؤس بوٹس خاص طور پر غیر ملکی سیاحوں کے لیے سب سے بڑی کشش تھیں، مگر ان کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر ہاؤس بوٹس سے متعلق پالیسی کو ازسرنو ترتیب دے کر اس قیمتی ورثے کو بچایا جائے۔کشمیر میں سیاحت کے اتار چڑھاؤ اور سخت ضوابط کے بیچ وادی کا یہ تیرتا ہوا ورثہ نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ جو منظر کبھی وادی کی خوبصورتی کی جیتی جاگتی تصویر سمجھا جاتا تھا، وہ اب غفلت، مشکلات اور ثقافتی زوال کی داستان بنتا جا رہا ہے ۔ اگر بروقت اور فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو یہ انمول سرمایہ ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن سکتا ہے۔