مختار احمد قریشی
بوڑھی ماں کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ آنسو کب کے ختم ہو چکے تھے۔ اب تو آنکھیں
صرف بھیگتی تھیں۔ جیسے برسوں کی پیاس نے آنسوؤں کو بھی خشک کر دیا ہو۔
وہ اسپتال کے کمرے کے باہر ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھی تھی۔ ہاتھ میں ایک پرانا رومال تھا
جسے وہ بار بار مروڑتی۔ سامنے سفید دروازہ تھا۔ اسی دروازے کے پیچھے اس کا شوہر لیٹا تھا۔
اکیلا۔ کمزور۔ خاموش۔
ڈاکٹر باہر آیا۔ فائل ہاتھ میں تھی۔ آواز رسمی تھی۔
’’آپریشن ضروری ہے۔ رسک ہے۔ فارم پر دستخط کسی قریبی رشتہ دار کو کرنے ہوں گے۔‘‘
بوڑھی ماں نے نظریں اٹھائیں۔ آواز کانپ گئی۔
’’میں ہوں نا۔‘‘
ڈاکٹر نے نرمی سے کہا۔
’’قانونی طور پر بیٹا یا بیٹی بہتر رہتا ہے۔ کوئی ہے؟‘‘
وہ خاموش ہو گئی۔ خاموشی میں برسوں کی کہانیاں بولنے لگیں۔
’’دو بیٹے ہیں۔” اس نے دھیرے سے کہا۔ “اور ایک بیٹی۔‘‘
’’تو بلائیے نا۔‘‘
بوڑھی ماں کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا۔
’’سب اپنے گھروں میں ہیں۔‘‘
ڈاکٹر نے فائل بند کی۔ کچھ لمحے رکا۔ پھر بولا۔
’’آپ کوشش کریں۔ وقت کم ہے۔‘‘
وہ وہیں بیٹھی رہی۔ فون نکالا۔ کانپتے ہاتھوں سے بڑے بیٹے کا نمبر ملایا۔
’بیٹا۔ تمہارے ابو کا آپریشن ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے دستخط کرنے ہوں گے۔‘‘
دوسری طرف خاموشی تھی۔ پھر بے دلی کی آواز آئی۔
’’امی۔ آج ممکن نہیں۔ دفتر سے چھٹی نہیں ملے گی۔ آپ ہی کچھ کر لو۔‘‘
فون بند ہو گیا۔
چھوٹے بیٹے کو فون کیا۔
’’بیٹا۔ ابو کی حالت نازک ہے۔‘‘
جواب آیا۔
’’امی۔ بچوں کا اسکول ہے۔ بیوی اکیلی نہیں سنبھال پائے گی۔ کل دیکھتے ہیں۔‘‘
کل۔ شاید دیر ہو چکی ہو۔
بیٹی کا نمبر ملایا۔ آواز رندھ گئی۔
’’بیٹی۔‘‘
دوسری طرف ہچکچاہٹ تھی۔
’’امی۔ آپ جانتی ہیں۔ سسرال والے پسند نہیں کرتے۔ میں اچانک نہیں آ سکتی۔ دعا کر لوں گی۔‘‘
فون ہاتھ سے پھسل گیا۔
بوڑھی ماں نے دیوار کا سہارا لیا۔ سر جھک گیا۔ ہونٹ ہلنے لگے۔
’’کاش۔‘‘
یہ لفظ اس کے ہونٹوں سے بار بار نکل رہا تھا۔
’’کاش میں نے ان بچوں کی سختی سے تربیت نہیں کی ہوتی۔‘‘
اسے یاد آیا۔
جب بڑے بیٹے نے ضد کی تھی۔ اسے مارا تھا۔ کہا تھا۔
’’باپ کا حکم حرف آخر ہے۔‘‘
جب چھوٹے بیٹے نے رو کر کہا تھا۔
’’’امی۔ ابو بہت سخت ہیں۔‘‘
اور اس نے جواب دیا تھا۔
’’سختی ہی زندگی سکھاتی ہے۔‘‘
جب بیٹی کو رخصت کرتے وقت کہا تھا۔
’’بیٹی۔ میکے کا نام روشن کرنا۔ باپ کی عزت پر آنچ نہ آئے۔‘‘
اس نے ہمیشہ بچوں کو سکھایا تھا کہ جذبات کمزوری ہیں۔ رونا بزدلی ہے۔ سوال کرنا گستاخی
ہے۔ باپ کا حکم خدا کا حکم ہے۔
آج وہی بچے اپنے اپنے گھروں میں محفوظ تھے اور وہ باپ اسپتال کے بستر پر اکیلا تھا۔
بوڑھی ماں نے دروازے کی طرف دیکھا۔ اندر سے ہلکی سی کھانسی کی آواز آئی۔ اس کا دل کانپ
گیا۔
وہ اٹھ کر ڈاکٹر کے پاس گئی۔
’’ڈاکٹر صاحب۔ کوئی اور راستہ؟‘‘
ڈاکٹر نے گہری سانس لی۔
’’اگر آپ گواہی دیں اور ہم تحریری اجازت لے لیں تو کوشش کر سکتے ہیں۔ مگر قانونی پیچیدگی
رہے گی۔‘‘
بوڑھی ماں نے فوراً کہا۔
’’میں تیار ہوں۔ جو بھی ہو۔ میں ذمہ داری لیتی ہوں۔‘‘
کاغذ اس کے سامنے آیا۔ اس نے ہاتھ کانپتے ہوئے دستخط کیے۔ ان دستخطوں میں پوری زندگی
سمٹ آئی تھی۔
آپریشن شروع ہوا۔
وہ باہر بیٹھی رہی۔ وقت رک گیا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ اسے اپنے فیصلوں کا حساب دے رہا تھا۔
’’میں نے انہیں مضبوط بنایا تھا۔ مگر شاید انسان نہیں بنایا۔‘‘
دروازہ کھلا۔ ڈاکٹر باہر آیا۔ چہرہ سنجیدہ تھا۔
’’ہم نے پوری کوشش کی۔‘‘
بوڑھی ماں کی سانس رک گئی۔
’’لیکن عمر اور کمزوری۔‘‘
وہ زمین پر بیٹھ گئی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس بار آنسو رک نہ سکے۔
کچھ دیر بعد بیٹے اور بیٹی آئے۔ ہانپتے ہوئے۔ گھبرائے ہوئے۔
’’امی۔ ابو کہاں ہیں؟‘‘
بوڑھی ماں نے خالی آنکھوں سے دیکھا۔
’’وہ اکیلا گیا۔ جیسے اکیلا جیتا تھا۔‘‘
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
بوڑھی ماں نے آہستہ سے کہا۔
’’میں نے تمہیں سخت بنایا مگر تمہارے دل نرم کرنا بھول گئی۔‘‘
کسی کے پاس جواب نہ تھا۔
وہ کمرہ خالی ہو چکا تھا۔ مگر ایک سبق وہیں رہ گیا تھا۔
سختی انسان کو مضبوط بنا سکتی ہے مگر محبت کے بغیر وہ مضبوطی بے روح ہو جاتی ہے۔
بوڑھی ماں کی آنکھوں سے آخری آنسو ٹپکا۔
اس بار وہ آنسو افسوس کا نہیں تھا۔ وہ اعتراف تھا۔
���
بونیاربارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر؛918082403001