عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ مبینہ طور پر کشمیریوں کو نشانہ بنانے اور ہراساں کیے جانے کے معاملات موجودہ اسمبلی اجلاس کے دوران ایوان میں زیرِ بحث لائے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ سے متعلق سوالات کا جواب وہ صرف اسمبلی کے فلور پر دیں گے۔اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیریوں سے متعلق خدشات پر بحث اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے۔انہوں نے کہا، ہم کشمیریوں کو نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کے معاملے پر بحث کرنے جا رہے ہیں۔بجٹ پیش کیے جانے سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے اسمبلی کے باہر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے ایوان میں ہی بات کریں گے۔انہوں نے کہا، بجٹ کے بارے میں جو کچھ کہنا ہوگا، وہ ایوان میں کہوں گا۔
پارلیمنٹ میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کے مبینہ بیانات سے متعلق سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ ایسے معاملات پر فیصلہ کرنا اسپیکر کا اختیار ہے اور قانون ساز اداروں کے وقار کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، یہ اسپیکر کا استحقاق ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔ اسی طرح ہماری اسمبلی کے معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کرنا مناسب نہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہاں کیا ہوا۔
کانگریس کی جانب سے کوآرڈی نیشن کمیٹی کی تشکیل کے مطالبے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی قیادت سے بات کی جائے۔انہوں نے کہانیشنل کانفرنس کے صدر سے بات کریں۔اپنے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ ہیں جبکہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بدستور نیشنل کانفرنس کے صدر ہیں۔انہوں نے مزید کہا،نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے ملاقات کریں، ان سے سوال کریں۔
کشمیریوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملات ایوان میں زیرِ بحث آئیں گے: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ