نعتِ اقدس
راہ طیبہ میں چلا اُن کا سنبھل کر عاشق
دولت دنیا کو قدموں سے مَسل کر عاشق
عشق اور مشک چھپا ہے نہ چھپانے سے کبھی
عشق ہے ان سے تو پھر اس پہ عمل کر عاشق
عشق کعبہ ہے مدینہ ہے منیٰ، مزدلفہ
عشق منزل ہے پہنچ دل سے تو چل کر عاشق
عشق کی راہ کٹھن سے بھی کٹھن ہوتی ہے
موم کی طرح ہی بنتے ہیں پگھل کر عاشق
سر کے بل چلتے رہے شبلی جنید و قاسم
شاہ بسطام بھی چلتے تھے سنبھل کر عاشق
سارے آداب کو ملحوظ نظر رکھنا یہاں
’’یہ مدینہ ہے مدینہ ہے سنبھل کر عاشق ‘‘
نکہت و نور کے گہوارے میں لکھتا ہے سعیدؔ
نعت سرکار ذرا عشق میں ڈھل کر عاشق
سعیدؔ قادری
صاحبگنج مظفرپور بہار
موبائل نمبر؛9262934249
ولادتِ امام حسینؑ
یہ ولادت ہے حسینؑ کی بے بہا پُرنور ہے
فاطمہ زھراؑ خوشی سے ہوگئی مسرور ہے
مصطفیٰؐ نے گود میں لی دین کی تقدیر ہے
مرتضیٰؑ کے خواب کی یوں ہورہی تعبیر ہے
گلشن زھرا میں پھیلا نور ہی بس نور ہے
یہ ولادت ہے حسینؑ کی بے بہا پُرنور ہے
یہ راکب دوشِ رسول کیا صاحبِ تنویر ہے
کربلا کے معرکے میں دین کی تفسیر ہے
گود میں لے کر حسینؑ کو مصطفیٰؐ مخمور ہے
یہ ولادت ہے حسینؑ کی بے بہا پُرنور ہے
خالقِ اکبر نے کردی یہ رقم تحریر ہے
اے حسینؑ اِبن علیؑ تو دین کی تصویر ہے
تیرے چہرے پہ نمایاں مصطفائی نور ہے
یہ ولادت ہے حسینؑ کی بے بہا پُرنور ہے
تو بِنائے لاالہ ہے جانثارِ مصطفیٰؐ
نورِ دیدِ فاطمہ اور وارثِ مشکل کشا
تیرا دُشمن درحقیقت کافرومغرور ہے
یہ ولادت ہے حسینؑ کی بے بہا پُرنور ہے
تونے گہوارے میں کردی جو کرامت یاحسینؑ
بھول نا پائے گامُطرس تاقیامت یا حسینؑ
تیرے دَر سے فیض پاتا بیکس و مجبور ہے
یہ ولادت ہے حسینؑ کی بے بہا پُرنور ہے
راہِ حق میں میرے مولا تونے اپنا سردیا
کربلا کی سرزمین کو عرشِ معلی کردیا
یہ مظفرؔ لکھ رہا ہے شاد ہے مسرور ہے
یہ ولادت ہے حسینؑ کی بے بہا پُرنور ہے
حکیم مظفر حسین مظفرؔ
باغبان پورہ لعل بازار، سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9622171322