عاصف بٹ
کشتواڑ//کشتواڑ میں بی جے پی لیڈروں و ریتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ انتظامیہ کے درمیان الزامات و جوابی الزامات کے درمیان یہ بات سامنے آئی ہے کہ جموں و کشمیر کے سب سے طویل عرصے تک زندہ رہنے والے ملی ٹینٹوں میں سے ایک محمد امین عرف جہانگیر سروڑی کے تین قریبی رشتہ دار اس پاورپروجیکٹ میں کام کر رہے ہیں۔ دریائے چناب پر کشتواڑ ضلع کے درابشالہ میں میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے ذریعے زیر تعمیر850میگاواٹ کا ریتلے پاور پروجیکٹ حال ہی میں جانچ کی زد میں آیا جب مقامی بی جے پی ایم ایل اے شگن پریہار نے الزام لگایا کہ پروجیکٹ انتظامیہ مقامی افرادی قوت کو نظر انداز کر رہی ہے اور باہر کے لوگوں کو اس پروجیکٹ میں بھرتی کر رہی ہے۔ پروجیکٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر و انچارج ہرپال سنگھ نے اس دعوے پر بتایاکہ پروجیکٹ میں کام کررہے بیشتر مقامی لوگوں کی اکثریت کو بی جے پی رہنماؤں کے دباؤ میں ہی بھرتی کیا گیا تھا۔ایس ایس پی کشتواڑ نریش سنگھ کی طرف سے ریتلے پروجیکٹ مینجمنٹ کو یکم نومبر کو لکھے گئے خط کے بعد یہ مسئلہ بڑھ گیا۔ ایس ایس پی نے خط میں کہا کہ سائٹ پر کام کرنے والے کارکنوں کی پولیس تصدیق کے دوران29افراد کو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔ پاور پروجیکٹ کی سٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایس ایس پی نے کہا کہ ایسی تنصیبات دشمن ملک کے ہائی رسک اہداف میں ہیں۔ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ ان ملازمین کو پروجیکٹ میں شامل کرنے سے پاور پرو جیکٹس کی سیکورٹی سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ افراد عسکریت پسندی سے روابط و مجرمانہ پس منظر رکھتے ہیں ۔آرڈر میں لکھا گیا ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق ریتلے پروجیکٹ میں اس وقت کام کرنے والے تین کارکنوں کے جہانگیر سروری کے ساتھ براہ راست خاندانی روابط ہیں جو 1992سے عسکریت پسندی میں سرگرم ہیں اور اب بھی فرار ہیں۔پولیس کے مطابق سرووری کا بھائی ،جو دراب شالہ کا ہی رہائشی ہے، 1جولائی 2022سے اس پروجیکٹ میں بطور ترکھان کام کر رہا ہے، سروڑی 19دسمبر 2022سے پروجیکٹ میں ملازم ایک اسسٹنٹ پلمبر کے چچا بھی ہیں، اس کارکن کے والد کو ضلع سی آئی ڈی کی طرف سے بالائی ورکر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سروڑی کے ایک کزن نے یکم اپریل 2022کو ایک ڈرلر کے طور پر پروجیکٹ میں شمولیت اختیار کی۔پولیس لسٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7فروری 2023سے پروجیکٹ میں ملازم ڈرائیور کا والد ملی ٹینٹ تنظیم کا ایک مشتہر شدہ بالائی ورکرہے جب کہ ایک سپروائزر کا والد ،جو 18ئی 2022کوپروجیکٹ میں شامل ہوا،ایک سرینڈرملی ٹینٹ ہے۔ فہرست میں شامل کئی دیگر کارکنوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہونے کی اطلاع ہے ۔ 16دسمبر کو ایس ایس پی کو لکھے گئے ایک جوابی خط میں ریتلے پروجیکٹ مینجمنٹ نے تسلیم کیا کہ پولیس نے جن افراد کا ذکر کیا ہے ،وہ اس جگہ پر ملازم ہیں ۔خط میں لکھاگیا’’ہم آپ کو مزید یقین دلاتے ہیں کہ ہماری طرف سے ایسے تمام افراد پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اگر کوئی کارکن کسی بھی ملک مخالف یا پروجیکٹ مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے ضروری کارروائی کے لیے فوری طور پر ضلع پولیس کو رپورٹ کیا جائے گا‘‘۔ ہرپال سنگھ نے الزام لگایا کہ جب سے یہ پروجیکٹ ایم آئی آئی ایل کے آپریشنز کے تحت آیا ہے ،بی جے پی لیڈروں کی طرف سے بھرتی کے سلسلے میں مسلسل دباؤ تھا۔انکاکہناتھا کہ’’ پولیس کے ذریعہ درج تمام 29کارکنوں کو اس وقت بی جے پی لیڈروں کے دباؤ میں بھرتی کیا گیا تھا،ہم نے پولیس حکام کو یقین دلایا ہے کہ ہم ان کارکنوں پر کڑی نظر رکھیں گے اور کسی بھی مشکوک چیز کی اطلاع دیں گے‘‘۔