ادھم پور اور قاضی گنڈ کے درمیان 80سے زائد غیر قانونی ڈھانچے منہدم کئے گئے:پروجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل ہائے
محمد تسکین
بانہال// نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے ادہم پور اور قاضی گنڈ کے درمیان جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ کے حصے پر غیر قانونی تجاوزات کے خلاف شروع کی گئی انہدامی کارروائی جمعہ کو دوسرے روز بھی جاری رہی اور اس کاروائی کے دوران جکھینی ادہم پور سے ہلڑ قاضی گنڈ تک 80سے زائد غیر قانونی ڈھانچوں اور تجاوزات کو شاہراہ سے ہٹایا گیا۔یہ کارروائی نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے حکام کی نگرانی میں ایس ڈی ایم بانہال، ایس ڈی پی او بانہال اور قاضی گنڈ ۔ بانہال ایکسپریس وے کے افسران کی موجودگی میں انجام دی گئی۔ اس موقع پر امن و قانون کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔سرکاری حکام کے مطابق یہ انہدامی کارروائی قومی شاہراہ کی اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف جاری ایک مستقل مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام این ایچ اے آئی کے مجاز افسر شبھم یادو کی جانب سے کی گئی ایک تفصیلی جانچ کے بعد اٹھایا گیا، جس کے دوران قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر 80 سے زائد غیر قانونی ڈھانچوں اور تجاوزات کی نشاندہی کی گئی تھی۔دریں اثنا، اس انہدامی مہم کے خلاف بانہال کے کئی مقامی لوگوں نے مزاحمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متعدد متاثرہ افراد کو این ایچ اے آئی کی جانب سے پیشگی نوٹس فراہم نہیں کیے گئے تھے جو نا انصافی ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فورلین شاہراہ کے ساتھ اپنی ملکیتی اراضی پر تعمیر کی گئی دکانوں اور رہائشی ڈھانچوں کا زمینی رابطہ انہدامی کارروائی کے دوران منقطع کر دیا گیا ہے، جس کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانہال ریلوےسٹیشن کے قریب شاہراہ پر واقع کئی نجی عمارتوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی دیواریں تعمیر نہیں کی گئیں، جس سے ان کی کروڑوں روپے مالیت کی املاک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق بارشوں کے دوران شاہراہ سے بہنے والاپانی بھی ان ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور سڑک کی مٹی کھسک کر ان کے ڈھانچوں میں گھس رہی ہے۔ اس حوالے سے بات کرنے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رام بن، شبھم یادو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق عمل میں لائی جا رہی ہے اور اس پر عملدرآمد جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد مرکزی وزارت برائے روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویز نے قومی شاہراہوں سے تجاوزات ہٹانے کی واضح ہدایات جاری کی ہیں، جن پر زمینی سطح پر موجود ٹیمیں شاہراہ کی سلامتی اور ٹریفک کی ہموار روانی کو یقینی بنانے کے لیے سختی سے عمل کر رہی ہیں۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ اب تک ادہم پور، بانہال اور قاضی گنڈ کے ہلڑ تک قومی شاہراہ کے تقریباً 100کلو میٹر حصے سے 80سے زائد غیر قانونی ڈھانچوں اور تجاوزات کو ہٹایا جا چکا ہے، جبکہ چند بقایا ڈھانچوں کو بھی مرحلہ وار مسمار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی اور کسی کو بھی جموں۔سرینگر قومی شاہراہ کی اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔