جاوید اقبال
مینڈھر // مینڈھر قصبے میں نکاسی آب کے ناقص اور غیر مؤثر نظام نے دکانداروں اور مقامی لوگوںکی زندگی کو مسلسل مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ ہر بارش کے بعد بازاروں اور رابطہ سڑکوں پر پانی کھڑا ہو جاتا ہے جس سے لوگوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوتی ہے، جبکہ پانی دکانوں میں داخل ہونے سے تاجروں کو بار بار نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے نکاسی آب کے لئے عملی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے معمولی بارش بھی علاقے کے لئے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔اطلاعات کے مطابق مینڈھر میں نکاسی آب کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری دی گئی تھی اور دو ماہ قبل اس کا ٹینڈر بھی الاٹ ہو چکا ہے۔ اسی سلسلے میں کابینہ وزیر اور حلقہ کے نمائندہ جاوید احمد رانا نے اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا تھا، جس کے بعد عوام میں امید پیدا ہوئی تھی کہ برسوں پرانا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔ تاہم، دو ماہ گزرنے کے باوجود جب کوئی کام آغاز نہ ہوا تو لوگوں میں سخت ناراضگی پیدا ہو گئی ہے۔دکانداروں اور مقامی لوگوںنے کابینہ وزیر جاوید احمد رانا سے اپیل کی ہے کہ کام شروع نہ ہونے کی وجوہات کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بیوپار منڈل کے صدر بلرام شرما نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’حکام صرف اعلانات کر رہے ہیں، جبکہ زمینی سطح پر کام کہیں نظر نہیں آ رہا۔ بارش کا موسم شروع ہونے والا ہے اور نکاسی آب کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ بارش کے بعد کئی کئی گھنٹے پانی سڑکوں اور بازاروں میں کھڑا رہتا ہے، جس سے نہ صرف تجارت شدید متاثر ہوتی ہے بلکہ گندگی اور بدبو کے باعث بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو بارشوں میں کاروبار مکمل طور پر بربادہوجائے گا۔عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر وزیر نے سنگِ بنیاد رکھ دیا تھا اور 50 لاکھ روپے کا ٹینڈر بھی منظور ہو چکا ہے تو پھر کام میں رکاوٹ کیوں ہے؟ لوگوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے اور عوام کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔مقامی آبادی نے انتظامیہ اور متعلقہ محکمے سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینڈر الاٹ ہونے کے بعد فوراً کام شروع کروایا جائے اور تاخیر کی وجوہات عوام کے سامنے واضح کی جائیں۔