محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کے علمی و سائنسی حلقوں کے لئے بدھ کا دن نہایت مسرت اور فخر کا حامل رہا، جب علی حیدر شاہ ولد صادق حسین شاہ کو بایوٹیکنالوجی میں ڈاکٹر آف فلاسفی (پی ایچ ڈی) کی ڈگری سے نوازا گیا۔ ان کا وائوا ووچے امتحان کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں بیرونی ممتحنین نے ان کے تحقیقی کام کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا۔علی حیدر شاہ نے اپنی تحقیق کا عنوان ’Evaluation of Antimalarial Potential of Selected Medicinal Plants of the Pir Panjal Range of Jammu & Kashmir‘منتخب کیا یہ ایک ایسا موضوع جس پر اس خطے میں پہلی مرتبہ منظم، تجرباتی اور ہمہ جہت سائنسی تحقیق کی گئی۔ انہوں نے یہ کام ڈاکٹر شعیب احمد اور ڈاکٹر رتو گل، ڈائریکٹر سی بی ٹی، ایم ڈی یونیورسٹی روتک کی مشترکہ نگرانی میں مکمل کیا۔جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ پہلے محقق ہیں جنہوں نے پیر پنچال کی چراگاہوں میں صدیوں سے استعمال ہونے والے 18 روایتی دواؤں کے پودوں پر انسدادِ ملیریا کے تناظر میں سائنسی تحقیق انجام دی۔ ان کی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ ان میں سے تین پودے Plasmodium falciparum (ملیریا کے مہلک ترین جرثومے) کے خلاف شاندار اثر پذیری رکھتے ہیں۔انہوں نے جدید GC–MS تجزیے کے ذریعے فعال مرکبات (Active Compounds) کی نشاندہی بھی کی، جو مستقبل میں نئی اینٹی ملیریا ادویات کی تیاری کے لیے اہم سائنسی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔بیرونی ممتحنین نے تحقیق کے جدت آمیز پہلو، سائنسی مضبوطی اور سماجی اہمیت کو بے حد سراہا اور اسے خطے میں انسدادِ ملیریا ریسرچ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے علی حیدر شاہ کو اس میدان میں مزید کام جاری رکھنے کی تاکید کی۔ واضح رہیگاؤں گورسائی، تحصیل مینڈھر سے تعلق رکھنے والے اس باصلاحیت نوجوان کی کامیابی کو نہ صرف علمی حلقوں بلکہ عام عوام میں بھی بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ سید خانوادے سے تعلق رکھنے والے اس محقق نے بین الاقوامی جرنلز میں اپنی تحقیق شائع کر کے عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت منوائی ہے، جو علاقائی فخر میں مزید اضافہ کا باعث ہے۔علی حیدر شاہ کی یہ نمایاں کامیابی پیر پنچال کے علمی مستقبل کے لیے امید کی نئی کرن ہے،ایک ایسی پیش رفت جس نے ثابت کیا کہ پونچھ و مینڈھر کی سرزمین میں علمی و تحقیقی استعداد کی کوئی کمی نہیں۔