محمد الیاس متوی
جنگل کے بیچوں بیچ برگد کے پیڑ کے سائے تلے تمام گھوڑے جمع تھے۔ فضا میں تشویش بھی تھی اور تھکن بھی۔ وہ ان بندروں سے تنگ آچکے تھے جو روز ان کے کھیت اجاڑ دیتے، سوکھے گھاس کے ڈھیر روند ڈالتے اور ان کی محنت پر پانی پھیر دیتے تھے۔ اسی وجہ سے یہ سبھا بُلائی گئی تھی۔
سبھا میں بیٹھے کچھ گھوڑے سرگوشی میں بول رہے تھے:
“اس حالت کا سارا الزام بندروں پر نہیں ڈال سکتے۔ اس میں ہمارے کچھ گھوڑوں کا بھی ہاتھ ہے۔”
ایک گھوڑے نے گہری آہ بھرتے ہوئے کہا:
“ہمارے کردار ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو نقصان پہنچا کر ہی سکون پاتے ہیں۔ ہماری زبان کچھ کہتی ہے اور عمل کچھ اور ہوتا ہے۔ تھوڑی سی گھاس کے لالچ میں ہم اپنا ضمیر بیچ دیتے ہیں اور بندروں کے ساتھ مل کر اپنی ہی نسل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمیں پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔ آج جو حالات ہم پر گزر رہے ہیں، یہ دراصل ہماری ہی بوئی ہوئی فصل ہے۔ ہم نے بندروں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، مگر ہر کوشش ناکام رہی۔ اب صبر کی حد ختم ہوچکی ہے۔”
تمام گھوڑوں نے نظریں جھکا لیں، مگر پھر بھی کچھ ایسے تھے جن کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔
اسی دوران، سبھا کے بیچ ایک گھوڑا کھڑا ہوا اور بلند آواز میں بولا:
“ہمیں اب بندروں کو سبق سکھانا ہوگا!”
ایک بوڑھے گھوڑے نے دھیرے سے سوال کیا:
“لیکن… یہ کام کرے گا کون؟”
اتنا سننا تھا کہ سبھا پر گہرا سناٹا چھا گیا۔ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ جھکی ہوئی نظریں، بے بسی بھری سانسیں بھی مگر ہمت کسی میں بھی نہ تھی۔
اچانک ایک نحیف مگر سنجیدہ آواز گونجی۔ ایک ادھیڑ عمر کا گھوڑا آگے بڑھا:
“یہ کام آسان نہیں۔ اس لڑائی میں بے قصور بندر بھی مارے جاسکتے ہیں۔ ان کے بچے، ان کی مادائیں… سب زد میں آئیں گے۔ اگر یہ جنگ چھڑی تو یہ معصوموں کا خون ہوگا۔ ایسا کام تو صرف کوئی درندہ ہی کرسکتا ہے۔”
اس کی بات کے بعد جنگل مزید خاموشی میں ڈوب گیا۔
پھر مجمع میں سے ایک اور گھوڑے نے کہا:
“اگر تم اپنی بستی کا کچھ حصہ دینے کو تیار ہو… تو شاید ایک درندہ یہ کام کر دے۔”
چند لمحوں تک سب ایک دوسرے کو تکتے رہے۔ روز روز کی بربادی سے نجات کی خواہش شدید تھی۔ انہوں نے سوچا:
“اگر مشکل ختم ہو جائے تو بستی کا تھوڑا سا حصہ دے دینے میں کیا حرج ہے؟”
لیکن سوال پھر بھی باقی تھا:
“یہ خونی کام کون کرے گا؟ کون بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگے گا؟ کون زندگی کی قیمت پر ظلم کو جواب دے گا؟”
تب ایک نوجوان گھوڑا دھیرے سے بولا:
“وہ ہم جانوروں میں سے نہیں ہوگا… وہ انسانوں میں سے ہوگا۔ وہ انسانی درندے اتنے خود غرض ہوتے ہیں کہ اپنی خواہش، لالچ، اقتدار اور بدلے کے لئے کسی بھی جاندار کو صفحۂ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔ اسی درندگی کے نشے میں انہوں نے کئی انسانی آبادیاں بھی مٹا دی ہیں۔”
یہ سن کر ایک اور نوجوان گھوڑا چونک کر بولا:
“انسان…؟ مگر وہ تو اشرف المخلوقات ہے! وہ کسی معصوم کی جان کیسے لے سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر وہ انسان نہیں، انسانی شکل میں وحشی درندہ ہوگا!”
ایک بزرگ گھوڑا گہری سانس لیتے ہوئے بولا:
“ہاں، یہ سچ ہے۔ ایسے درندے کسی بھی روپ میں ہوسکتے ہیں۔ وہ حیوان ہوں، پرند ہوں یا انسان، ان کے لئے خون صرف قیمت ہے۔ ایسے خونخوار درندے پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ ان سے ہوشیار رہنا ہم سب کا فرض ہے۔”
یہ سن کر ایک نوجوان گھوڑا اپنے آنسو ضبط نہ کرسکا۔ اس کی آواز لرز رہی تھی:
“ہمارے جانوروں نے کبھی ہمارا خون نہیں بہایا۔ ہاں، کھیت اُجڑتے ہیں، فصلیں برباد ہوتی ہیں… مگر جان نہیں جاتی۔ ہم کسی انسانی درندے کو اپنی بستی کا حصہ ہرگز نہیں دیں گے چاہے نقصان جتنا بھی ہو جائے!”
اس کے الفاظ فضا میں گونجتے رہے، اور پھر اس گونج کے ساتھ ایک نئے جذبے بھی جنم لیا۔
پورا مجمع نوجوان کے فیصلے پر متفق ہوگیا۔ بزرگوں نے بھی سر جھکا کر تائید کی۔
اس دن سبھا ختم نہ ہو بلکہ ایک نئی سوچ اور ایک نئے عہد کے ساتھ مکمل ہوئی۔
���
لموچن دراس لداخ
موبائل نمبر؛9469732903