ملک سمیہ
“آفتاب پہاڑی کی اوٹ سے نکل کر نوید سحر لے کر آیا لیکن میری سیاہ رات کی سحر اب تک نہیں ہوئی” پروینہ کھڑکی کے پاس کھڑی مورت کی طرح زندگی سے شکوہ کررہی تھی کہ اس کا بیٹا امین چائے کی ٹرے ہاتھ میں لئے کمرے میں داخل ہوا۔ پروینہ کے ماتھے پر نیا زخم دیکھ کر اسکی آنکھیں نم ہوگئیں۔
“امی ۔۔۔ یہ زخم کیسا ۔۔۔ ” کہتے کہتے اسکی نظر کمرے کی سفید دیوار پر پڑی جس پر خون کا دھبہ نمایاں تھا ۔
امین نے چائے کی ٹرے میز پر رکھی اور ماں کو سامنے بٹھا کر مرہم پٹی کرنے لگا۔
کچھ دیر سکوت طاری رہا۔ پھر امین نے خاموشی توڑ کر ماں سے پوچھا :
” امی ! آپ کے ماتھے پر یہ چوٹ کیسے لگی؟ ۔۔ کل رات جب میں گھر آیا تو آپ کے کمرے سے کچھ آوازیں آرہی تھیں۔۔ ؟”
پروینہ نظریں چراتے ہوئے بولی ” کچھ نہیں ۔۔۔۔ تم اپنے ابا کو تو جانتے ہی ہو ۔ ”
“ہاں امی ۔۔۔” امین سنجیدہ ہوکر بولا
” ہاں ۔۔ وہ کل تھوڑا غصے میں تھے ۔۔ ” پروینہ نے بھاری آواز میں جواب دیا ۔
امین حیران وپریشان اپنی اماں کو دیر تک دیکھتا رہا اور باہر جانے سے پہلے کھلی کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں ان کا آبائی قبرستان تھا اور اس میں ایک قبر کا قطبہ دور سے دکھائی دے رہا تھا جس پر اس کے باپ کا نام صاف صاف دکھائی دے رہا تھا’’مرحوم شوکت علی ‘‘۔
مائی نیو اسکول درگمولہ کپوارہ، کشمیر
[email protected]