شبنم بنت رشید
شاہ صاحب اور اسکی بیگم اپنے بے روزگار بیٹے شاہ شارق کی بیروزگاری کا رونا روتے روتے تھک گئے کیونکہ پچھلے سات آٹھ سال سے انکا لاڑلا بیٹا شاہ شارق گھر میں بیٹھا کبھی سوشل میڈیا پر، کہیں ریڈیو، اخبار، کہیں ٹی وی پر سرکاری نوکری کے اشتہار ڈھونڈ وھونڈ کر فارم بھرتا رہا۔ دوسری طرف اسکی شادی کی عمر نکلتی جارہی تھی ۔ بیٹا غم روزگار سے ڈپریشن یا کسی غلط صحبت کا شکار نہ ہوجائے اسلئے وہ دونوں پریشان ہونے لگے۔ پھر انہوں نے روزگار کے مسلے کو بالائے طاق رکھ کر شاہ شارق کی شادی کرانے کا فیصلہ کر لیا ۔ جٹ منگنی پٹ بیاہ والی بات ہوگئی۔ گھر میں کسی بھی چیز کی کمی نہ تھی البتہ گھر کافی خستہ ہوچکا تھا اسلئے شادی سے پہلے گھر کا رنگ روغن اور باقی مرمت کرنا لازمی بنتا تھا۔ اسلئے انہوں نے اس سارے کام کا ٹھیکہ ڈیڑھ لاکھ روپے کے عوض ایک غیر ریاستی پڑھے لکھے نوجوان شیخ وسیم کو دیا، جو اس نے صرف ایک مہینے میں مکمل کر لیا۔ آج مقامی بنک کے کاؤنٹر نمبر ایک پر شاہ شارق اپنی شادی میں کچھ ذاتی اخرجات پورے کرنے کے لئے پچاس ہزار کا قرضہ لے رہا تھا تو اسی بنک کے کاؤنٹر نمبر دو پر وسیم ایک لاکھ روپے اپنے گھر بھیج رہا تھا ۔
���
پہل گام اننت ناگ ،موبائل نمبر؛9419038028