عظمیٰ نیوز سروس
جموں //اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس، کٹرہ میں میرٹ پر مبنی ایم بی بی ایس داخلوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سخت مذمت کی۔ بخاری کی زیر صدارت جموں میں پارٹی ہیڈ آفس میں منعقد اجلاس میں صوبائی صدر جموں ایس۔ منجیت سنگھ اور صوبے کے دیگر سینئر رہنماوں نے شرکت کی۔اجلاس میں تنظیمی ڈھانچے پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور جموں ڈویژن میں عوامی رابطہ مہمات کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔ رہنماوں نے جموں و کشمیر کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال پر بھی بحث کی اور ان عناصر کی مذمت کی جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔الطاف بخاری نے عوام کی تعریف کی کہ انہوں نے اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی کوششوں کے باوجود امن کا دامن نہیں چھوڑا۔انہوں نے ان سیاسی جماعتوں پر تنقید کی جو ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای، کٹرہ میں ایم بی بی ایس داخلوں کو، جو مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر تھے، غلط اور فرقہ وارانہ انداز میں پیش کر رہی ہیں۔اسی دوران انہوں نے لال قلعہ نئی دہلی کے قریب ہونے والے دھماکے اور نوگام پولیس اسٹیشن میں ہوئے دھماکے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے دونوں واقعات کے متاثرین اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے دھماکوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے امن و امان کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ اس عمل کے دوران کسی بے گناہ کو ہراساں نہ کیا جائے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس حکومت کو بھی جموں اور کشمیر کے عوام کو بنیادی سہولیات اور مفت بجلی فراہم کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ این سی حکومت نے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جھوٹے نعرے لگائے، لیکن بعد میں عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ یوں منتخب حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا۔